اسلام آباد:
سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، ایوان نے اقراء گلوبل یونیورسٹی، کتب پر پلاسٹک کور روکنے، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اور ضابطہ فوج داری ترمیمی بلز بھی منظور کرلیے۔
سینیٹ کا اجلاس پریذائیڈنگ افسر سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد پیش کی۔
امیرمقام کی قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا، بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضے کی مذمت کرتے ہیں، یہ ایوان بھارتی قبضے کو ناجائز قرارد دیتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے چناؤ کے حق کی حمایت کرتا ہے، ایوان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل کرائے، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے۔
بعدازاں ایوان نے کشمیر کے حق میں قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دےدی۔
ایوان نے اقرا گلوبل یونیورسٹی، کتب پر پلاسٹک کور روکنے، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اور ضابطہ فوج داری ترمیمی بلز بھی منظور ہوئے جبکہ اقبالیات کے فروغ اور سرکاری انتظامیہ کو نوآبادیاتی نظام سے نجات دلانے کے بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیے گئے۔
پاسپورٹس ترمیمی بل کی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مخالفت کی، جس کے بعد ایوان نے بل مسترد کردیا۔ امیگریشن ترمیمی بل اور اسلام آباد میٹرو بس سروس بل مؤخر کردیے گئے۔ فوجداری قوانین سے متعلق بل پر طلال چوہدری اور ثمینہ ممتاز زہری کے درمیان بحث ہوئی، جس کے بعد بل کی منظوری مؤخر کردی گئی۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے پیش کردہ اسلام آباد تحفظ صارفین ترمیمی بل کی حکومت نے مخالفت کی، تاہم بل کے حق میں دس اور مخالفت میں چار ووٹ آئے اور بل منظور کرلیا گیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے اتوار بازار میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بڑے شاپنگ مالز اور پلازوں میں حفاظتی انتظامات کی جانچ بھی کی جاتی ہے یا نہیں۔
شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی
دریں اثنا سینیٹ کے اجلاس میں شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی ہوئی جس پر شیری رحمان ایوان سے چلی گئیں، ان کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔
جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے لیے دعائے مغفرت
سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایوان میں کہا کہ میں آج جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں، ان کے بارے میں سنا ہے وہ بڑے اصول پسند انسان تھے، یہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ملک آگے چلے گا۔
سینیٹ اجلاس میں مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کروائی گئی، اِس وقت اجلاس میں حکومتی بنچوں پر صرف دو ارکان بیٹھے ہوئے تھے۔
علی ظفر کا نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار
سینیٹر علی ظفر نے ایک اخبار کی خبر کا حوالہ دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں پر ایوان میں شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہوں، قومی و صوبائی اسمبلی کی حدود کی تبدیلی عوام کے اعتراضات سنے بغیر کی گئی، حلقہ جات 233، 234، 236، 238، 243، 244 اور 245 میں حدود تبدیل کی گئیں، مخصوص افراد کو جتوانے کے لیے حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی گئی ہے، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 22 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس اور منسوخ کیا جائے، الیکشن کمیشن کا اصل کام صرف شفاف اور آزادانہ الیکشن کروانا ہے، حلقہ بندیوں کی تبدیلی سے پہلے عوام کو سننا یقینی بنایا جائے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کوئی نوٹی فکیشن ہے تو شئیر کریں، فی الحال صرف اخبار کی ایک خبر کی بنا پر بات ہو رہی ہے یہاں، میں الیکشن کمشن سے مزید معلومات لے لوں گا۔،
مشعال یوسفزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے 20 دنوں سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی جاری ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ محروم علاقے بن چکے ہیں، ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا، خیبر پختونخوا سے ممبران اسمبلی کو لاپتا کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کے بیانیے کی آڑ میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا، تحریک انصاف کے پرچم اور تختیاں ہٹائی جا رہی ہیں کیا آپ کو دہشت گرد ہمارے جھنڈوں کی شکل میں نظر آتے ہیں؟ چادر اور چار دیواری کا تقدس اور پختون روایات پامال کی جا رہی ہیں۔
سینیٹر مشال اعظم یوسف زئی نے معاشرے میں کم مراعات یافتہ طبقے کو درپیش مسائل کی تحریک پیش کردی اور کہا کہ ہمارے پارلمنٹیرنز لاپتا ہیں، ہمارا وزیراعلی لاپتا ہے، ہم نے حکومت میں رہتے ہوئے کبھی چادر اور چار دیواری کو پامال نہیں کیا۔
سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے اعتراض کیا کہ یہ تحریک کچھ اور ہے بات کچھ ہو رہی ہے۔ پریزائیڈنگ افسر نے مشال یوسف زئی سے کہا کہ آپ خود کو تحریک تک ہی رکھیں۔
مشال یوسف زئی نے کہا کہ ہم کم مراعات یافتہ ہی تو ہیں ہمارے حقوق سلب ہو رہے ہیں، انڈر پریولیج اور کیا ہوتا ہے؟ ہمارے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، ساڑھے چار کروڑ عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔
سینیٹر مشعال اعظم کے خطاب کے دوران حکومتی و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی ہوئی، سینیٹر مشعال یوسفزئی کی تقریرکے دوران سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور سینیٹر ناصر بٹ کھڑے ہوگئے۔ خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ مشعال جو بول رہی ہیں وہ سینٹ کے رولز کے خلاف ہے
بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔