سعودی عرب نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی محفوظ بنانے کے لیے سنگاپور میں خام تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بنالیا جس پر عمل درآمد 2027 کے دوسرے نصف میں متوقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس انتظام کا مقصد تیل کی ترسیل میں رکاوٹ آنے کی صورت میں سنگاپور کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا میں سعودی تیل کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
تاہم ذخیرہ کیے جانے والے خام تیل کی مقدار اور معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تاہم سعودی اور سنگاپور کی وزارتوں کے بقول اس منصوبے کے تحت سعودی خام تیل سنگاپور کے جزیرے جورونگ میں زیرِ زمین چٹانی ذخیرہ گاہوں میں رکھا جائے گا۔
اس سلسلے میں سعودی آرامکو اور سنگاپور کے متعلقہ اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا ہے جبکہ تجارتی مذاکرات آئندہ چند ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
سنگاپور کی زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں میں مجموعی طور پر تقریباً 90 لاکھ بیرل مائع ہائیڈروکاربن رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب کے لیے اس میں سے کتنی جگہ مختص ہوگی۔
سعودی عرب اس سے پہلے جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی خام تیل ذخیرہ کرنے کے انتظامات کرچکا ہے۔ ان انتظامات کے ذریعے مملکت ایشیائی صارفین کے قریب تیل دستیاب رکھنے اور ہنگامی حالات میں سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
یاد رہے کہ جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے تیل کی ترسیل کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس سے دنیا میں تیل کی ترسیل میں اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور ایشیائی ممالک کو توانائی کے ذخائر کے تحفظ پر زیادہ توجہ دینا پڑی۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ عالمی توانائی منڈیوں کے 2027 میں بھی جنگ سے پہلے کی صورت حال پر واپس آنے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی فراہمی کا تحفظ حکومتوں اور کاروباری اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔