کراچی:
گلستان جوہر کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا، کے ایم سے فائربریگیڈ کے 4 فائرٹینڈر اور ایک واٹر باوزر کے دیگر ریسکیو 1122 سمیت دیگر 3 فائربریگیڈ کی گاڑیوں نے بھی آگ بجھانے کے کام میں حصہ لیا، واٹر کارپوریشن کی جانب سے پانی کی سپلائی بھی جاری رہی۔
آگ کی شدت اتنی ذیادہ تھی کہ ملحقہ رہائشی عمارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، آتشزدگی کے بعد 35 دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں اور اس میں رکھا سامان مکمل طورپر جل کر خاکستر ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر بلاک 11 کامران چورنگی کے قریب کھلے میدان میں قائم فرنیچر مارکیٹ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب آگ بھڑک اٹھی، آگ لگنے کی اطلاع پر فائربریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ریسکیو 1122 کی ٹیم مع فائر بریگیڈ ٹرک اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی، فائر بریگیڈ فائٹرز نے آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا۔
آگ لگنے کی اطلاع پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، آگ لگنے کی اطلاع پر کے الیکٹرک کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کی بجلی منقطع کر دی، آگ کو دیکھنے کے لیے اطراف کی سڑکوں پر تماش بینوں کا رش لگ گیا جس سے علاقے میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کی درخواست پر واٹر کارپوریشن کی جانب سے فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر کے بلا تعطل پانی کی فراہمی جاری رکھی گئی۔
ترجمان فائر بریگیڈ کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ایک بج کر 35 منٹ پر موصول ہوئی تھی، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں 10 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئیں تھیں تاہم خشک موسم اور تیز ہوا کے باعث آگ نے کچھ منٹوں میں ہی شدت اختیار کر لی تھی۔ مجموعی طور پر کے ایم سی فائربریگیڈ کی 4 گاڑیوں، ایک واٹر باوزر اور دیگر محکموں کی 2 فائرٹینڈر نے آگ بجھانے کے کام میں حصہ لیا جبکہ ریسکیو 1122 کے عملے نے بھی ایک فائر ٹرک کے ہمراہ آگ بجھانے کے کام میں حصہ لیا
آتشزدگی کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم تقریباً 35 فرنیچر کی دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئیں، فائر فائٹرز نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا جبکہ صبح تقریباً 5 بجے تک کولنگ کا عمل جاری رہا۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 سال سے یہ مارکیٹ قائم ہے، آتشزدگی کے باعث مارکیٹ کا کروڑوں روپے کا قیمتی فرنیچر اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا، گزشتہ سال بھی اسی مارکیٹ میں آگ لگی تھی، متاثرہ دکانداروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دکانداروں کی مالی مدد کریں تاکہ جو دکاندار چند گھنٹوں میں آسمان سے زمین پر آگرے ہیں وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کا کہنا تھا کہ ڈرائی موسم میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے، آگ اوپن پلاٹ میں قائم فرنیچر کی دکانوں میں لگی تھی، ممکنہ طور پر آگ لگنے کی وجہ جھگی کے رہائشیوں کی غفلت ہو سکتی ہے۔
چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ کوئی چنگاری نکلی ہوگی جو فرنیچر پر جا گری، نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا، آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات اور رپورٹ تیار کی جا رہی ہے، آتشزدگی میں کسی جانی نقصان نہیں ہوا۔