انتخابی اصلاحات کیلیے کمیٹی کا قیام، اسپیکر نے وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور دیگر کو خطوط بھیج دیے

انتخابی اصلاحات کیلیے 30 رکنی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں 20 ارکان قومی اسمبلی جبکہ 10 سینیٹ سے ہوں گے، ترجمان


ویب ڈیسک October 30, 2026

اسپیکر قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے قیام کیلیے وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو خطوط بھیج دیے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے قیام کیلیے وزیر اعظم شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، چیئرمین سینیٹ وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو خطوط بھیج دیے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق انتخابات اصلاحات کیلئے 30 رکنی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں 20 اراکین قومی اسمبلی اور 10 سینیٹرز شامل ہوں گے۔

قومی اسمبلی کے اراکین میں 15 حکومتی اور 5 اپوزیشن اراکین شامل ہوں گے جبکہ چیئرمین سینیٹ کمیٹی کیلئے 10 اراکین کے نام بھجوائیں گے جن میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان شامل ہوں گے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی۔ 

اپوزیشن وفد سے ہونے والی ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر آج اپوزیشن وفد سے ملنے آئے اور درخواست کی کہ دونوں ایوانوں کی جو انتخابی اصلاحات کی کمیٹیاں بن رہی ہیں اس میں تمام جماعتیں اپنی شمولیت یقینی بنائیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن اس کمیٹی میں لازمی اپنا فعال کردار اور  اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کرے، کمیٹیاں پارلیمانی امور کا دل ہوتی ہیں اس میں اگر وہ غیر حاضر ہوں تو ان کے تحفظات کو کیسے دور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر دور کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں، ہم نے اپوزیشن کو بائیکاٹ ختم کر کے قائمہ کمیٹیوں میں واپس آنے کا مشورہ دیا، ہم ہر دور میں الیکٹورل ریفارمز کا میثاق کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے ہماری بات جذبہ خیر سگالی سے سنی اور کہا کہ ہم مشاورت کر کے آپ کو جواب دیں گے، ہمیں امید ہے وہ ہماری تجاویز کا  مثبت جواب دیں گے۔


دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی سے الیکشن ریفارمز کمیٹی ( انتخابی اصلاحاتی کمیٹی ) کی تشکیل کی منظوری دی جا چکی ہے۔