آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں پس منظر کی جانچ پڑتال کے لیے 6 اہم آئینی اصول جاری کر دیے

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت  امین الدین خان نے تحریری فیصلہ جاری کیا


جہانزیب عباسی November 04, 2026

پولیس میں بھرتی سے قبل مقدمے سے بریت کے باوجود نااہل قرار دینے سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں پس منظر کی جانچ پڑتال کے لیے 6 اہم آئینی اصول جاری کر دیے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت  امین الدین خان نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ محض ایف آئی آر کا اندراج خود بخود سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں بنے گا، عدالتی بریت کو تسلیم کیا جائے گا اور امیدوار کے پس منظر و اہلیت کا معروضی جائزہ لیا جائے گا، کردار کی منفی تصدیق قیاس آرائی کی بجائے مستند اور قابلِ تصدیق شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔

عدالت کے مطابق  بریت کے بعد مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جائے گا، زیرِ سماعت مقدمات میں صرف ان کی زیرِ سماعت ہونے کی حد تک ذکر ہوگا، کسی بھی امیدوار کو سنوائی کا موقع دیے بغیر اور معقول وجوہات کے بغیر عام طور پر بھرتی سےخارج نہیں کیا جائے گا، بھرتی کے فیصلے قانونی معیار، میرٹ اور انصاف و مساوات کی آئینی ضمانتوں کے مطابق ہوں گے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بریت کے باوجود بھرتی پر پابندی غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی قرار  دیا، درخواست گزار عبداللطیف کی میرٹ لسٹ میں سیکنڈ پوزیشن کے مطابق امیدواری بحال کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے 30 دنوں کے اندر طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کر کے تعیناتی کا آرڈر جاری کرنے کی ہدایت کی، عدالت نے کہا کہ سابقہ ایف آئی آر اور بریت کو اب بھرتی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، کیا بریت کے بعد سابقہ مقدمہ بھرتی میں دائمی نااہلی کی بنیاد بن سکتا ہے؟ صرف ایف آئی آر کا اندراج جرم کا ثبوت نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ جرم کا مفروضہ بنتا ہے، بریت کے بعد محض شبہے کی بنیاد پر انتظامیہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔

فیصلے کے مطابق ڈی جی خان پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا، محکمہ پولیس کا یہ عمل قانونی بدنیتی اور اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے زمرے میں آتا ہے، اسلامی احکام کے مطابق کوئی بھی منفی اقدام تصدیق شدہ حقائق پر ہونا چاہیے، محض شبہے پر نہیں، ہائیکورٹ نے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں قانونی سقم کو محسوس نہیں کیا۔

لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے 22 مئی 2025 کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی، درخواست گزار نے ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، عدالت  کے مطابق درخواست گزار کو 2018 میں ایک مقدمے سے بری کیا جا چکا تھا، بریت اور کلین پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے باوجود محکمے نے بھرتی سے انکار کیا۔

محکمے کی جانب سے نمائندگی مسترد ہونے پر ہائیکورٹ میں رٹ اور انٹرا کورٹ اپیل خارج کی گئی تھی۔