توہین مذہب کیس میں سزا میں 2 ماہ 25 دن باقی رہ جانے والے مجرم کی سزا معطلی کی درخواست منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا


فیاض محمود November 04, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کیس میں سزا میں پانچ ماہ 25 دن باقی رہ جانے والے مجرم کی سزا معطلی کی درخواست منظور کر لی۔

عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ سزا کیخلاف مرکزی  اپیلوں کو دو ہفتے بعد سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

جسٹس اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ توہینِ مذہب کیس کی سماعت کے دوران لگتا تھا کوئی آئے گا اور مجھے گولی مار کر چلا جائے گا، اس سیٹ پر بغیر کسی خوف کے بیٹھا جاتا ہے، ڈر کی وجہ سے کوئی جج اپیل  نہیں  سنتا، میں اگر اکیلا سن سکتا تو سن لیتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس خادم سومرو نے  سزا یافتہ مجرمان کی سزا معطلی اور سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت کی۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ میں جواب دوں گا تو ایک اور ریفرنس دائر ہوجائے گا، جسٹس اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ ریاست منافقت کرتی ہے، جج اور گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، کتنے جج ایسے ہیں جن کی جانیں چلی گئیں۔ سب کو معلوم ہے یہ اپیلیں سالوں سے کیوں مقرر نہیں ہوتیں؟

بینچ کی جانب سزا معطلی کا حکم لکھوانے کے بعد مدعی مقدمہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، میں اس کیس میں مدعی ہوں۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ جج کے فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، جج کے خلاف کوئی شکایت ہو تو قانونی پلیٹ فارم موجود ہے، میرے خلاف جاکر ایک اور ریفرنس دائر کردیں۔

عدالت نے سزا یافتہ مجرم کی سزا معطل کرتے ہوئے دو ہفتے بعد مرکزی اپیلیں مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔