کراچی پورٹ پر 27 کروڑ کا فراڈ؛ پرزہ جات کی آڑ میں پرفیومز کاسمیٹکس درآمد کرنے کا انکشاف

غلط بیانی اور مس ڈیکلریشن کے ذریعے 10 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی چوری کی کوشش کی گئی


احتشام مفتی November 04, 2026
فوٹو فائل

ڈائریکٹوریٹ جنرل کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی نے بندرگاہ پر کارروائی کے دوران 27 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کے سامان میں بڑے پیمانے پر مبینہ فراڈ کی نشاندہی کی ہے۔

ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید کے مطابق ایکسپورٹ پراسیسنگ زون رسالپور بھیجے جانے والے مشکوک کنسائنمنٹ کی فزیکل جانچ پڑتال میں اشیا کی غلط تفصیلات ظاہر کیے جانے کا انکشاف ہوا۔

کسٹمز حکام کے مطابق درآمدکنندہ کمپنی میسرز بلومنگ بڈز انڈسٹریز نے محکمہ کسٹمز میں جمع کرائے گئے گڈز ڈیکلریشن میں مصنوعی پھول، مشینری کے پرزہ جات اور اسپرے ظاہر کیے تھے، تاہم معائنے کے دوران کنسائنمنٹ میں موجود اصل سامان اور دستاویزات میں درج اشیا کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مصنوعی پھولوں اور پودوں کی تیاری و برآمد کے لیے کمپنی کو جاری کردہ ای پی زیڈ لائسنس بھی کنسائنمنٹ میں موجود اشیا اور ان سے متعلق پیداواری سرگرمیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حکام کے مطابق مشکوک کنسائنمنٹ میں مصنوعی پھولوں، پرزہ جات اور اسپرے کی آڑ میں لوڈ سیلز، پرفیومز اور کاسمیٹکس بھی درآمد کیے گئے تھے۔ غلط بیانی اور مس ڈیکلریشن کے ذریعے 10 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی چوری کی کوشش کی گئی۔

ڈائریکٹوریٹ نے درآمدکنندہ کمپنی اور اس کے مبینہ ساتھیوں و سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف کنٹراوینشن کی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔