دنیا میں اس وقت یونی پولر پاور سسٹم ہے، یعنی امریکا جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ چین اور روس اس کو اپنی سی ٹکر دے رہے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ امریکا ان دونوں ممالک کے خلاف کوئی حرکت نہیں کرتا اور نہ ہی سوچتا ہے، کیوں کہ روس ایک بہت بڑا ملک اور بڑی فوجی قوت ہے، تو چین فوجی کے ساتھ ساتھ ایک معاشی قوت ہے۔
لیکن اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ حالیہ خلیج تنازعے میں چین اور روس کا کردار پس منظر کے کھلاڑیوں جیسا رہا اور انہوں نے فرنٹ فٹ پر آکر امریکا کو روکنے یا امریکا مخالف بیانیے کی بھی سامنے آکر مخالفت نہیں کی۔ یہی چیز اس وقت تک دنیا میں یونی پولر نظام کو مضبوط کیے ہوئے ہے۔ اور امریکی بالادستی ایک عالمی تھانیدار کی سی برقرار ہے۔ یہ عالمی برتری بہت سے حوالوں سے امریکی نظامِ ریاست کی محتاج ہے ورنہ امریکا کا حال بھی اس وقت کسی ایشائی یا خلیجی ریاست سے مختلف نہ ہوتا۔
امریکی نظام حکومت کو اگر گہرائی میں دیکھنے کے بجائے صرف ایک اچٹتی سے نگاہ بھی ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کیوں امریکا اس وقت واحد سپر پاور کے طور پر اس عالمی یونی پولر طاقت کے نظام کی سربراہی کر رہا ہے اور کیوں پورا یورپ، خلیجی ریاستیں، چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں، امریکا کے ساتھ نہ صرف براہ راست مخاصمت میں نہیں پڑتیں، بلکہ شدید اختلافات کے باوجود باقاعدہ کوئی عالمی اتحاد امریکا کے خلاف وجود میں نہیں آ رہا۔
لفاظی بہت ہوتی ہے۔ الفاظ کی جنگ میں بہت سے ممالک امریکا کے خلاف تنقید کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ امریکا کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکتے۔ ٹرمپ جب انتخابات جیتے تو انہیں امریکی عوام نے ہی موقع دیا کہ کچھ الگ کر کے دکھائیں لیکن جب وہ عوامی اعتماد کے خلاف گئے تو عوام نے چوکوں اور چوراہوں میں تو تنقید کی لیکن اصل فیصلہ بیلٹ سے کیا۔
حالیہ امریکی مڈٹرم انتخابات اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ کیوں امریکا اس وقت تک عالمی سطح پر اپنی چوہدراہٹ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ رائے عامہ بہت مضبوط ہے۔ عوامی طاقت کے اظہار میں مشکلات کے باوجود پابندیاں نہیں ہیں۔ اور لوگ خاص طور پر جب اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں تو وہ ترقی پذیر ممالک کی طرح خالی خولی نعروں پہ ووٹ نہیں دیتے۔ بلکہ باقاعدہ لابنگ کے مراحل سے امیدوار جب گزر کے آتے ہیں تو ایک چھلنی سے جیسے گزر کر آتے ہیں۔ عوامی مباحثوں میں مخالف امیدوار جب ایک دوسرے کے تابڑ توڑ حملوں کے جواب اعدادوشمار سے دیتے ہیں تو اس وقت لوگ اپنی ذہن سازی کر لیتے ہیں کہ ان کا ووٹ کس طرف جائے گا۔
اب اس منظر کو اپنے ملک کے سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھیے تو ایسا کوئی بھی مباحثہ یا تو گالم گلوچ پہ ختم ہو یا پھر گریبانوں پہ ہاتھ ہوں گے۔ ظہرانی ممدانی کی مخالفت امریکی صدر خود کر رہا ہے اور اسے نہ جانے کیا کیا القابات دے رہا ہے لیکن نیویارک کے عوام نے اپنا ذہن بنا لیا کہ یہ بندہ ہمارے لیے بہتر ہے تو انہوں نے اپنے صدر کی بھی نہیں سنی اور وہ نیو یارک کے میئر بن گئے۔ تنقید بہت زیادہ ہوئی لیکن ان کے میئر بننے پر کوئی سوال نہیں اٹھا کہ عالمی چوہدری کا اپنا انتخابی نظام اور امریکا کے بطور ریاست ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ کسی نے یہ نقطہ تک اٹھایا ہی نہیں کہ دھاندلی ہوئی یا دھاندلا۔
امریکا میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات نے دنیا کی طاقتور ترین شخصیت یعنی امریکی صدر کی حکومتی پارٹی کا بھرکس نکال دیا ہے لیکن محدودے چند گنی چنی آوازوں کے، بطور مجموعی کسی نے انتخابی نظام پر سوال نہیں اٹھایا۔ وجہ کیا ہے؟ کیوں کہ امریکی عوام اور امیدواران جانتے ہیں کہ امریکا عالمی طاقت صرف اسلحے کے زور پر نہیں ہے بلکہ ملکی ادارے مضبوط، آزاد اور خود مختار بنا کر بھی ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے ذمے داران کی کارکردگی پہ کوئی سوال اس لیے نہیں اٹھ رہا کہ عالمی طاقت نے باقاعدہ انتخابی اور جمہوری اداروں کے مضبوط بنانے میں محنت کی ہے۔
آپ ایک لمحے کے لیے جائزہ لیجیے کہ امریکا کا صدر، پارٹی حکومت میں اور دونوں ایوانوں میں شکست۔ پوری حکومتی مشینری ہاتھ میں ہونے کے باوجود امریکی صدر یا ریپبلیکن پارٹی کی طرف امریکا کے انتخابی نظام پہ کوئی انگلی نہیں اٹھی۔ خلیج میں امریکی کی محاذ آرائی، ٹیکس نظام، ٹیرف کی کرنیاں، ان سب کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے ریپبلیکنز کی شکست کی۔ ہم خود امریکا کو اکثر اپنے الفاظ سے تختہء مشق بنائے رکھتے ہیں لیکن امریکا کی چوہدراہٹ کو اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں جب تک وہاں کا نظام مضبوط ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا میں اس وقت ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں 239جب کہ ریپبلیکنز 161نشستیں حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان انتخابی نتائج کو اپنے ملک کے معروضی حالات یا کسی بھی ترقی پذیر ملک کے حالات پر پرکھیے تو اس وقت الیکٹرانک میڈیا میں دھاندلی کے الزامات میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ اور امریکا جیسی عالمی طاقت میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ممکنہ بدترین نظر آتی شکست پہ امریکی صدر کا ردعمل کیا آیا؟ ’’انہوں نے بہتر کارکردگی دکھائی‘‘ یہ انہوں نے ڈیموکریٹس کے لیے کہا۔ اور اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ایران جنگ کو اس کی وجہ قرار دیا۔
سابق امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جیسی اہم شخصیت کی بہن تک شکست سے دوچار ہو گئیں لیکن کوئی سوال نہیں نتائج پہ اٹھا رہا۔ مسلمان نژاد عبدل السید جیسے راہنما تاریخ فتح حاصل کر چکے ہیں لیکن کوئی انتخابی نظام کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہا۔ ٹیکساس جیسی ریڈ ریاست تیس سال بعد کم و بیش بلو ہو گئی، یعنی اتنے طویل عرصے بعد یہاں ریپلیکنز کو شکست ہو گئی لیکن اسے عوام کی مرضی مان لیا گیا ہے۔ الہان عمر دوبارہ جیت گئیں، لیکن کوئی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے امریکا کے انتخابی نظام پر اعتماد کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی سیاہ فام گورنر، کیشا لانس باٹمز نے جارجیا جیسی ریاست ریپبلیکنز سے چھین لی لیکن سب کو یقین ہے کہ ایسا واقعی عوامی امنگوں کے مطابق ہوا ہے۔
دنیا کی اس وقت کی فرنٹ فٹ پر واحد عالمی طاقت میں مڈٹرم انتخابی نتائج کو نہ صرف ہر کوئی تسلیم کر رہا ہے بلکہ اسے عوام کی طرف سے سخت جواب سے تعبیر کر رہا اور حکومتی پارٹی اپنی شکست کی وجہ ایران جنگ، تیل کی بڑھتی قیمتوں، ٹیرف وغیرہ کو قرار دے رہی ہے اور امریکا صدر اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر چلنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ تو میرا خیال ہے ہمیں اس سوال کا جواب کہ، امریکا عالمی طاقت کیوں ہے؟ کا جواب تلاش کرنے کے لیے کوئی لائبریریزی چھاننے یا اے آئی پہ قلابے ملانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ حالیہ مڈٹرم انتخابات ہی یہ بتانے کو کافی ہیں کہ امریکا میں نظام مملکت اس قدر مضبوط ہے کہ وہی اس کو دنیا کی عالمی طاقت بناتا ہے۔ مشکلات کے باوجود وہاں عوام اپنا حق رائے دہی صرف کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں اور عوامی خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے نہ کہ دھاندلی کے شور میں ووٹ چوری کرنے کی کوئی سبیل کی جاتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔