محکمہ صحت میں 8 کروڑ روپے کی سٹیشنری خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جب کہ اینٹی کرپشن نے 7 کروڑ 99 لاکھ روپے کی خریداری کا نوٹس لے لیا۔
اسٹیشنری خریداری کا بجٹ موجود نہیں تھا، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا، پرچیز کمیٹی کی منظوری کے بغیر من پسند کمپنی کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کا انکشاف ہوا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں 25-2024 میں اس مبینہ بےضابطگی کی نشاندہی کی گئی، کمپنی کے بلوں پر سیریل نمبر اور تاریخیں بھی درج نہیں تھیں۔
اسٹیشنری سپلائر کمپنی صرف آئی ٹی آلات اور دفتری سامان کے کاروبار میں رجسٹرڈ تھی، پشاور:خریداری کے ساتھ ہی ہزاروں ریم کاغذ اور ٹونرز کا استعمال ظاہر کیا گیا، 4 ہزار 800 ریم لیگل پیپر اور 5 ہزار 200 ریم اے فور پیپر کی کھپت ظاہر کی گئی، ایک ہزار 585 ٹونر کارٹریجز کے استعمال کا بھی ریکارڈ سامنے آگیا۔
پورے سال میں محکمہ صحت سے صرف 3 لاکھ 2 ہزار 206 خطوط جاری ہوئے، 8 کروڑ کی خریداری کے علاوہ معمول کے بجٹ سے ڈیڑھ کروڑ کی سٹیشنری بھی خریدی گئی، سامان کی فزیکل ویریفکیشن اور سٹاک رجسٹر میں اندراج بھی نہیں کیا گیا، 27 مارچ 2023 کو تشکیل دی گئی پرچیز کمیٹی سے بھی منظوری نہیں لی گئی، اینٹی کرپشن نے ڈی جی ہیلتھ سروسز کو 7 روز میں جواب اور مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔
خریداری سے ادائیگی تک ملوث افسران کے نام اور عہدے ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی جب کہ تسلی بخش جواب نہ دینے پر مزید قانونی کارروائی کا انتباہ کیا گیا۔