اسلام آباد:
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا عمل تا حکمِ ثانی روکنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 140-A کی معطلی کے حکم نامے کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں سوائے اُن اضلاع کے جہاں گورنر رول اور ایمرجنسی کے بعد آئین کے آرٹیکل 140-A کو معطل کردیا گیا تھا، بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں متعدد اقدامات شروع کردیے گئے تھے۔
آج الیکشن کمیشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ آرڈر نمبر 3 مورخہ 4 نومبر 2026 زیرِ بحث لایا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی۔ اجلاس میں مذکورہ حکم نامے کی شق نمبر 2 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حکم نامے کے تحت آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A کو معطل کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق پچھلے آرڈر کے تحت مخصوص (Designated) اضلاع کے علاوہ دیگر تمام اضلاع پر بھی کردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں میں مقامی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کی ذیلی شق (2) کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ کمیشن نے مذکورہ آرٹیکل کی باقی اضلاع میں بھی معطلی کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے جاری انتخابی عمل پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تاہم غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ حکم نامے کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا ان انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اب تک کیے گئے تمام اقدامات کو تا حکمِ ثانی روک دیا جائے۔