فلم ابھی باقی ہے میرے دوست؛ امریکی مڈٹرم الیکشن کے کن نتائج کا اب بھی انتظار ہے

صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ نے شکست کی دھول چٹا دی


ویب ڈیسک November 05, 2026
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی آئندہ 2 سال کی حکمت عملی پر اثرانداز ہوں گے

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے بیشتر حلقوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی حکمراں جماعت ریپبلکن کو شکست کی دھول چٹا دی تاہم چند حلقوں میں گنتی اب بھی جاری ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایوانِ نمائندگان کے لیے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے 240 نشستوں پر میدان مار لیا جبکہ حکمراں جماعت ریپبلکن کو 147 سیٹوں پر کامیابی ملی تاہم 48 حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں

اگر یہ ٹرمپ کے حق میں آتے ہیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور اپوزیشن جماعت نے 240 نشستیں پہلے ہی حاصل کرلی ہیں۔

اسی طرح سینیٹ میں بھی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی مجموعی نشستیں 54 ہوگئی ہیں اور ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے پاس 44 سیٹیں ہیں جب کہ صرف 2 حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔

اگر الاسکا اور مسیسیپی کے ان دو حلقوں میں ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کو کامیابی مل بھی گئی تو مجموعی تعداد 46 ہوجائے گی جب کہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ 54 نشستوں کے ساتھ پہلے ہی سینیٹ میں بھی برتری حاصل کرچکی ہے۔

علاوہ ازیں گورنر کے دو انتخابات، یعنی ریاستی گورنر کے عہدے کے لیے مقابلے بھی اب تک جاری ہیں۔ یہ مقابلے کنساس اور الاسکا میں ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے اور 48 حلقوں کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ 

جن میں کولوراڈو کے 5، مونٹانا 1، نیویارک 17، نارتھ کیرولائنا 1، ساؤتھ کیرولائنا 1، ورجینیا 1، الاسکا 1 اور ایریزونا کے 2 حلقے شامل ہیں۔

اس کے ساتھ کولوراڈو 4، فلوریڈا 7، فلوریڈا 9، فلوریڈا 13، فلوریڈا 27، مین 2،مینیسوٹا 1، نیویارک 21 اور اوہائیو 10کے حلقوں کے نتائج کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ورجینیا 5، ایریزونا 1،ایریزونا 6، لوزیانا 6 اور ٹینیسی 9 کے حلقوں کے نتائج کا فیصلہ آنا بھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور نائب سدر جے ڈی وینس مڈٹرم الیکشن میں اپنی جماعت کی ناکامی کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے چکے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور امریکی عوام متنفر ہوئی۔