جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے قریب بحری گشت کے طیارے، بارودی مواد ناکارہ بنانے والی ٹیم اور بغیر عملے کے جدید بحری آلات بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کا مشن غیر جنگی ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے بحری قزاقوں کے خلاف اپنے مشن ’’چیونگ ہی یونٹ‘‘ کے دائرہ کار کو خلیج عدن سے بڑھا کر عمان کے جنوب میں کھلے سمندر تک توسیع دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس مشن میں پی 8 اے پوسیڈن بحری گشت کا طیارہ، بارودی مواد ناکارہ بنانے والی ٹیم اور بغیر عملے کے زیرِآب و سطحِ آب بحری آلات شامل ہوں گے۔ اس توسیع سے مشن کے اہلکاروں کی تعداد میں 75 کا اضافہ کرکے مجموعی تعداد 395 کردی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تجارتی جہازوں اور جنوبی کوریا کے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہے۔ طیاروں کو ایرانی حدود، علاقائی پانیوں یا آبنائے ہرمز کے اندر نگرانی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور مشن اتحادی افواج سے الگ، جنوبی کوریا کی اپنی کمان میں کام کرے گا۔
حکومت اس منصوبے کی منظوری کے لیے کابینہ اور صدر کی توثیق کے بعد پارلیمان سے رجوع کرے گی۔ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کسی عملی کارروائی میں شرکت کے لیے الگ منظوری درکار ہوگی۔