
چھوٹے مینڈک اس دیو قامت مینڈک کو دکھ کر خوف کے مارے کانپنے لگے کیوں کہ یہ مینڈک ان کی بستی کہ بڑے منڈک سے کئی گنا زیادہ بڑا تھا، کئی روز تک مینڈک اس غبارے کہ نزدیک نہیں آتے، جب بہت دن اس ٖبڑے غبارے والے مینڈک نے کوئی حرکت نہیں کی تو ایک چھوٹے مینڈک نے ڈرتے ڈرتے اس مینڈک کو چھونے کی کوشش کی، اس نے غبارے کو ہاتھ لگاتے ہی ڈور لگانا شروع کردی اور بہت دور جاکر رکنے کے بعداس نے بیچھے مڑ کردیکھا کہ بڑا مینڈک اب بھی جوں کا توں کھڑا ہے ، اس نے اگلے روز پھر یہی کیا ، لیکن غبارہ اپنی جگہ ہی رہا، اس چھوٹے مینڈک نے بستی کے تمام مینڈکوں کو جمع کیا اور اپنی بہادری کا نمونہ بستی والوں کو دکھایا، تمام مینڈکوں کے سامنے اس دیوہیکل میڈک پر یہ ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا، سب اس منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ آخریہ ہوا کہ وہاں موجود تمام مینڈکوں کا ڈر ختم ہو گیا اور یہ سب، مینڈک نما غبارے سے تفریح اور کھیل کود کرنے لگے۔ پھر کچھ عرصے بعد اس غبارے کی جھاڑیوں میں اٹکی ہوئی ڈور ڈھیلی ہوگئی اور یہ غبارہ تیرتاہوا ان کی بستی سے دور چلا گیا۔ اب اصل بڑے قد والا مینڈک بھی بستی میں واپس آگیا، اس بار اس کودیکھ کر بستی کا کوئی مینڈک اس سے ڈرا نہیں، الٹا اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے، یہ بڑا مینڈک بڑا پریشان ہوا چیختا چلاتا رہا مگر کوئی اس سے پھر کبھی نہیں ڈرا، اس سے نہ ڈرنے کی وجہ یہ تھی کے بستی کے تمام مینڈکوں نے اس سے بڑے جسامت والے مینڈک کو دیکھ لیا تھا ، اور ان کی تمام تر حرکتوں پر وہ کھڑا رہا، اس لئے اب ان کے دل سے اس کا خوف، ڈر اور عزت کم ہوگئی تھی۔
یہی سب کچھ ہماری عملی زندگیوں میں بھی ہو رہا ہے ، ہماری زندگی سے خوشیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ہم مایوسی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں، ہمیں دکھایا کچھ جا تاہے اور حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان ،چاہے وہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو، وہ فلم ، ٹی وی وغیرہ سے اتنا متاثر ہو چکا ہے کہ اب وہ صرف اپنے سے بڑے طبقے کو ہی دیکھتا اور سوچتا ہے اور اس دیکھنے کے نتیجے میں وہ ان تمام چیزوں سے خود کا موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔لہذا آج اگر کسی کا باپ محنت کرتا کرتا بوڑھا ہوجائے دن رات محنت کر کے اپنے بال سفید ہی کیوں نہ کر لے مگر ہمارے جیسے نوجوان یہ جملہ کہتے ہوئے سیکنڈ نہیں لگاتے کہ '' آپ نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟'' یہ جملہ اس زمانے میں اس لیے عام ہوگیا ہے کہ ہم نے اپنے دماغ میں ایک خیالی دنیا بنالی ہے جوحقیقی دنیا کے مقابلے میں بہت بڑی اور اس کی اصل زندگی کے با لکل برعکس ہے۔ یاد رکھیں فلم ، ڈرامہ، ناول اصل کے قریب تر تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقت نہیں، حقیقی دنیا میں کسی کا دل ٹوٹنے پر میوزک سنائی نہیں دے گا، نہ ہی آپ راتوں رات مالدار بن جائیں گے ،یا عزت اور شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگیں گے۔ حقیقی دنیا دیکھنے میں خوبصورت ہے لیکن در حقیقت یہ بڑی کٹھن ہے۔ دنیا ایک کانٹوں بھرا راستہ ہے جس پر سے ہر شخص کو گزرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ خیالوں کی دنیا میں رہیں گے اور اس دنیا میں سفر کریں گے تو آپ ہر قدم پر زخم کھائیں گے۔ امیر ہونے والا ہر شخص راتوں رات کامیاب نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک مسلسل محنت ہوتی ہے، جو انہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہیں۔
ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی، یہ محاورہ میں اور آپ بچپن سے سنتے آرہے ہیں، یہ بات کتنی معنی خیز ہے اس کا اندازہ آپ کو اس وقت ہو گا کہ جب آپ ملازمت کے لئے گھر سے نکلیں گے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں دیکھنے میں ہر چیز چمکتی ہے لیکن حقیقت میں کوئلے کی کان ہے ، اس کوئلے کی کالک سے ہی ہیرے نکل کر سامنے آتے ہیں اور ہم ان ہیروں کی چمک میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ ہمیں اس کے پیچھے کی محنت نظر ہی نہیں آتی۔ ہمیں ایک مکمل ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہماری خیالوں کی وہ دنیا ہے جسے ہم نے خود تخلیق کیا ہے، اور جب ہم اپنے مطلب کی چیز حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ہم اپنے ساتھ اپنے ارد گرد ماحول کو بھی مایوسی کا شکار کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں خود اپنے مرکز میں رہ کر صحیح راستے پر چلنا ہوگا۔ اقبال عظیم نے آج کے دور کے لئے ہی کہا تھا؛
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہوجاؤ گے ،افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خدوخال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے!
نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔