نوجوان ہوشیار باش

ہمارا بہت شاندار استقبال ہوا، ہمیں وی آئی پی کمرے دیے گئے، روز ایک ’’ٹرینر‘‘ آتا اور ہم سے اچھی اچھی باتیں کرتا۔


علی جبران January 21, 2015
ہمارا بہت شاندار استقبال ہوا، ہمیں وی آئی پی کمرے دیے گئے، روز ایک ’’ٹرینر‘‘ آتا اور ہم سے اچھی اچھی باتیں کرتا۔ فوٹو فائل

دسمبر کی اوس میں بھیگی ہوئی صبح کا پُرلطف منظر تھا، آنکھیں گلاب کی پنکھڑیوں پر پڑی چمکتی ہوئی شبنم کے قطروں کو دیکھ رہی تھیں، ہاتھ میں چائے کا کپ اور اس سے اُٹھتا گرم دھواں اس ماحول کو اور خوبصورت بنا رہا تھا۔

صبح کے 6 بجے تھے اور مشرق کی سمت سے سورج میاں بھی انگڑائیاں لیتے آنکھیں ملتے ہوئے ایک حسین صبح کا آغاز کرنے جارہے تھے۔ صبح صبح قدرت کے پیارے پیارے مناظر دل و دماغ کو راحت بخش رہے تھے کہ پتا نہیں کہاں سے آج لئیق صاحب ہمارے گھر کا دروازہ کھٹ کھٹا کرزور زور سے ہمارا نام پکارنے لگے۔ ا

للہ خیر کرے، میں نے چائے کا کپ سائڈ ٹیبل پر رکھا اور جلدی سے دروازہ کھولا، اسلام علیکم لئیق بھائی! سب خیریت تو ہے؟ اتنی صبح اور وہ بھی اتنی تیاری کے ساتھ؟ لئیق صاحب نے اپنی ٹائی کی ناٹ درست کرتے ہوئے فرمایا، میں آج ایک این جی او کی جانب سے شہر کے مشہور ترین پانچ ستارہ ہوٹل 3دن کے لئے جا رہا ہوں، میں آپ سے پوچھنے آیا تھا کہ آپ کے پاس پالش ہوگی؟ میری پالش ختم ہوگئی ہے، اتفاق سے ہمارا تعلق بھی مڈل کلاس فیملی سے تھا اورلئیق بھائی کے ''ہم علاقہ'' ہونے کی وجہ سے پالش کے بغیر ہی ہم گھیلا کپڑا جوتوں پر پھیر کردنیا جہاں میں گھوم لیا کرتے تھے، اس لئے ہم نے لئیق بھائی سے معزرت چاہی اور ساتھ ہی ان سے درخواست کی کہ جب آپ 3دن کے بعد واپس آجائیں تو مجھ سے ملاقات کرکے وہاں کے حال احوال لازمی سنائیے گا۔

لئیق صاحب کو رخصت کرنے کے ساتھ ہی دل و دماغ میں مختلف سوالات جنم لینے لگے، آخر ہمارے ساتھ ہی انتی مہربانی کیوں؟ جن علاقے والوں نے کبھی تین ستارہ ہوٹل بھی نا دیکھا ہو، انہیں پانچ ستارہ ہوٹل لے جایا جارہا ہے؟ آخر کون اتنے پیسے ہم پر خرچ کر رہا ہے اور کیوں؟ اس طرح کے اور بھی سوالات دماغ میں گردش کرنے لگے۔ اسی کشمکش اور الجھن میں ہم نے تین دن میں این جی اوز پر کافی تحقیق کر ڈالی۔ اب انتظار لئیق صاحب کے آنے کا تھا۔

تیسرا دن تھا لئیق صاحب بھی عین وقت پر ہمارے گھر آپہنچے، کاندھے پر ایک شاندار بیگ لٹکا اور ساتھ ہی ایک شرٹ بھی اپنی شرٹ کے اوپر چڑھا رکھی تھی۔ اس شرٹ پر این جی او کا نام چسپا تھا۔ ان کے چہرے پر خوشی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ اُنہوں نے وہاں کے احوال بتانا شروع کیا، کہنے لگے ہمارا بہت شانداراستقبال ہوا، ہمیں وی آئی پی کمرے دیے گئے، روز ایک ''ٹرینر'' آتا اور ہم سے اچھی اچھی باتیں کرتا، ہم سے مختلف ''Activity'' کراتا۔ صبح دوپہر رات کا کھانا بھی شاندار تھا، حکومت کے بڑے بڑے لوگ بھی اس ''ایونٹ'' میں آتے رہے، ہمیں بیگ، شرٹ، پین، ڈائری، سرٹیفیکیٹ اورایوارڈ بھی دیے گئے۔

ان کی مکمل بات سن کر ہم نے ایک لمبا سانس بھرا اور لئیق صاحب سے کہا کہ تمہیں میں ایک کہانی سناتا ہوں، سنو گے؟ چونکہ یہ ابھی تازہ تازہ ماحول سے آئے تھے اور وہاں انہیں کہانیاں بھی بہت سنائی گئیں تھیں تو انہوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ ہاں میں سر ہلا دیا۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ کسی محلے میں ایک خاندان آکر آباد ہوا، انہوں نے ایک دن کھانا پکانے کے لئے پڑوس سے ایک دیگچہ مانگا، پڑوسیوں نے دیگچہ دے دیا، انہوں نے کھانا پکا کر اگلے دن جب دیگچہ واپس کیا تو ساتھ ہی اس کے اندر ایک چھوٹا سا برتن بھی رکھ کردے دیا۔ پڑوسیوں نے کہا ''یہ برتن ہمارا نہیں ہے'' دیگچہ استعمال کرنے والے نے جواب دیا ''آپ کے دیگچے نے کل رات بچہ دیا تھا، یہ پیالہ وہی بچہ ہے، اس پر آپ کا حق ہے، ہم آپ کا حق نہیں مار سکتے''۔ پڑوسی عجیب و غریب جواب سن کر حیران رہ گئے اور نئے آباد ہونے والوں کو انہوں نے بیوقوف سمجھتے ہوئے دیگچے کا ''بچہ'' بھی رکھ لیا۔

کچھ دن بعد انہوں نے پھر دیگچی مانگی اور واپس کرتے ہوئے ایک پلیٹ بھی ساتھ دی، اور اس بار یہ پلیٹ اس دیگجی کی ''بیٹی '' تھی، پڑوسیوں نے قہقہ لگایا اوراسے بھی رکھ لیا۔ اب تو یہ معمول بن چکا تھا، پڑوسی بھی خوشی خوشی دیگچی دیتے اور ساتھ میں بچہ بھی قبول کر لیتے۔ پھر ایک دن انہیں ایک دیگ کی ضرورت پڑگئی، آج سے 30سال پہلے ''دیگ'' بڑی لگژری سمجھی جاتی تھی، یہ صرف چند لوگوں کے پاس ہوتی تھی اور لوگ انہیں رشک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔

انہوں نے اس بار دیگ مانگی، دو دن ہوگئے دیگ واپس نہیں آئی، تیسرے دن پڑوسی نے دروازہ بجایا اور دیگ واپس کرنے کو کہا، اس شخص نے سر جھکاتے ہوئے دکھی لہجے میں کہا ''کل رات آپ کی دیگ انتقال فرما گئی ہم نے اسے قبرستان میں دفنا دیا''۔ مالک نے حیران ہو کر پوچھا ''دیگ کیسے مرسکتی ہے؟'' جواب ملا ''جناب جیسے سارے برتن مرتے ہیں''۔ مالک کو غصہ آیا اوروہ معاملہ پنچایت میں لے گیا، پنچایت نے تمام کیس کو سنا اور ایک قہقہ لگا کر کیس ڈس مس کردیا۔

پڑوسی بچارہ اپنی لالچ اور وقتی فائدے کو ہوس میں اپنا نقصان کر بیٹھا۔ اصل میں برتن ادھار لینے والا بندہ فراڈیا تھا، اس نے پڑوسی کو لالچ دے دے کر اپنا ''ٹارگٹ'' پورا کر لیا۔

لئیق صاحب! یہی کھیل ہماری نوجوان نسل کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔ اس وقت کراچی کے ہر دوسرے گھر میں ایک این جی او کھولی جارہی ہے اور تمام کے تمام ہی تقریباً نوجوانوں کے لئے کام کررہے ہیں۔ یہ آپ پر لاکھوں روپے لگا رہے ہیں، آپ کو وہ سب فراہم کر رہے ہیں کہ جسے ایک نوجوان کو ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا یہ ادارے امن پر کام کررہے ہیں، یہ این جی اوز امن کے نام پر مہنگے ترین ہوٹل میں'' امن مشاعرہ'' تو کروا لیتے ہیں مگر کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ اسی کے ساتھ یہ ادارے تعلیم کی آڑ میں جنسی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں، پاکستان کو ''سیکس فری سوسائٹی'' بنانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے سندھ ٹیکس بورڈ کی طرف سے منظور شدہ نصاب میں چھٹی سے دسویں کلاس کے بچے اور بچیوں کو جنسی تعلیم دی جا رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کچھ عرصہ قبل Bargadنامی این جی او کو طلب کیا کیوں کہ اس این جی او کی طرف سے حکومت کی منظوری کے بعد گجرانوالہ کے اسکولوں میں ایک لٹریچر تقسیم کیاگیا جس میں بچوں کی سکھایا جارہا تھا کہ لڑکیوں کو لڑکوں سے کیسے دوستی کرنی چاہیے۔ نا صرف یہ بلکہ این جی اوز کی آڑ میں ہمارے ملک کی جاسوسی بھی کی جاتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 50 سے زائد ایسی این جی اوز ہیں جو صرف پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف کام کر رہی ہیں، جن کی لسٹ خود پاکستان کے حساس اداروں نے پیش کی۔ لئیق صاحب کہیں آپ بھی کسی کے استعمال میں تو نہیں؟ لئیق صاحب گہری سوچ میں تھے اور ان کو یہ تمام معلومات سن کر بہت حیرانی ہورہی تھی۔ ان کی آنکھوں میں مجھے اور معلومات کی جستجو اور طلب کی چمک دکھائی دی، سو ہم نے ان کی طلب کو ختم کرنے کے لئے انہیں ایک دلچسپ حقیقت اور مزید معلومات دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی 3 دن کی محنت سے پٹاری میں جمع کی گئی معلومات کو کھولنا شروع کیا۔

لئیق بھائی کیا آپ کو پتا ہے کہ جب کبھی پاکستان میں کوئی قدرتی آفت آتی ہیں تو یہ این جی اوز دکھائی کیوں نہیں دیتیں؟ انہیں پالتا کون ہے؟ کون فنڈز دیتا ہے؟ انہوں نے کندھے اچکا کر نفی میں سر ہلا دیا۔ چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں، جوممالک ان این جی اوز کو فنڈز فراہم کرتے ہیں اگر ان تمام فنڈز کو جمع کیا جائے تو ملک میں غربت، قحط، اوربیماریوں کاخاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا سارا سرمایہ آپ کی تین روزجیسی کانفرنس، واک،ریسرچ رپورٹ، سیمیناروں، آگاہی پروگرام اور بھاری بھاری تنخواہوں میں لگ جاتا ہے۔



فوٹو؛ فائل

پاکستان میں این جی اوز کو فنڈز دینے کے لئے 60 کے قریب بڑے بڑے ''ڈونرز'' نے اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں، ان میں سے چند کے نام میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ Acumen Fund (نیویارک) یہ معاشرتی مسائل کے حل کی تلاش کے لئے فنڈز دیتی ہے، CFLI-CIDA (اوٹاوا، کینیڈا) غربت کے خاتمے کے لئے۔ یہ آغا خان کی سب سے بڑی ڈونر ہے، CRS (بالٹیمور، امریکا) یہ عورتوں ، بچوں اور اقلیتوں کی فلاح کے لئے ہے، Church World Service(امریکا)، اقلیتوں کا تحفظ، FNST (جرمنی) آزادی کی ٹرینگ، GEP - Gender Equality Project (برطانیہ) نام سے کام واضح ہے،KFW اداروں کو بہتر ننانا،NORAD (اوسلو، ناروے) معاشی ،معاشرتی اور سیاسی بہتری،OXFAM (آکسفورڈ، برطانیہ)غربت کے خاتمے اور آفات میں کام آتی ہے،RNE(ہالینڈ) انسانی حقوق، عورتوں اور اقلیت، Save the Children (لندن، امریکا) بچوں کے حقوق کی جدوجہد، SSI (سسکس،برطانیہ) نابینا افراد کے لئے،SDC (برلن، سوئٹزرلینڈ) پسماندہ افراد کے لئے،TAF (سان فرانسسکو، امریکا) جمہوریت اور عورتوں کے حقوق، USAID (واشنگٹن) یہ ہر اس گروہ کو فنڈز فراہم کرتا ہے جو پاکستان میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کرے، ان سے فنڈز لینے والی این جی اوز میں سے کوئی بھی زلزلہ، سیلاب، قحط میں نظر نہیں آیا، ایسا کیوں ہے لئیق بھائی اس پر آپ خود غور کریں۔



لئیق بھائی میرے آپ سے چند سوال ہیں ان کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ اب تک لئیق صاحب کے چہرے کی رنگت بھی خاصی تبدیل ہوچکی تھی، میرا پہلا سوال یہ کہ آپ پر ہی اتنی مہربانی کیوں؟ کیوں لاکھوں روپے آپ پر خرچ کئے جا رہے ہیں؟ پھر دینے والا بھی آپ سے اپنے مطلب کا کام لے گا اور آپ انکار بھی نہیں کرسکے گیں۔ اگر کسی دن آپ سے ''دیگ'' کا مطالبہ کردیا تو آپ کیا کریں گے؟ پاکستان میں 60 فیصد نوجوان طبقہ ہے جو اس ملک کا قیمتی سرمایا ہے۔ آپ نوجوان ہو آپ کے ہاتھوں میں اس قوم و ملت کا مستقبل ہے، آپ نے ہر قدم سوچ سمجھ کراٹھانا ہے، آپ کو کھانا، کپڑے اور دیگر سہولیات دے کرآپ کو حریص بنایا جارہا ہے، بہت سے اس میں مخلص لوگ بھی ہیں مگر وہ صرف انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ آپ اپنا ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں، خود کو استعمال نہیں ہونے دیں، اس لئے میں آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ نوجوانوں! ہوشیار باش۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں