سبز پاسپورٹ صرف کاغذ کا ٹکرا نہیں
یہ جو آج لہک لہک کر سُر بکھیرے جا رہے ہیں یہ ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر عدنان سمیع کے پاس پاکستان کا سبز پاسپورٹ نہ ہوتا۔
سبز پاسپورٹ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک فخر ہے اور آج مجھے فخر ہے کہ میرے پاس سبز پاسپورٹ ہے، کیوںکہ میں ایسے ملک کا شہری ہوں جس کی بنیادوں میں قربانیاں دینے والے ایسے گمنام شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے جنہوں نے موت کو مسکرا کر گلے لگایا۔
مجھے آج اپنے ایک عزیز رانا صاحب کے الفاظ سمجھ آ رہے ہیں جو ایک طویل عرصہ دیارِ عرب کے باسی رہے۔ وہ اکثر جب ہمیں بتاتے تھے کہ تقسیم کے اس وقت کا میں گواہ ہوں جب پردے لٹ رہے تھے، جب گردنیں کٹ رہی تھیں، جب سروں کے مینار قائم ہو رہے تھے، رانا صاحب اس وقت اپنے بزرگوں کے کندھوں پہ سوار نئے دیس میں پہنچے تو ایک جگہ دشمن نے حملہ کردیا۔ لاشوں کے درمیان گرتے پڑتے پاکستان پہنچے۔ اسی لئے آج پاکستان کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں اور یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ وطن ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کی رگوں میں بے وفائی کا بیج تناور درخت بن چکا ہے بلکہ یہ دیس ان لوگوں کی وراثت ہے جن کی رگوں میں شہیدوں کا لہو آج بھی زندگی بن کر دوڑ رہا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ عدنان سمیع خان صاحب کے بوجھ سے اس دھرتی کو نجات ملی کیوں کہ یہ دھرتی بہت سے کم عقلوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ایک بازو قلم کروا چکی ہے۔ قصور عدنان سمیع کا ہرگز نہیں، وہ افغان و کشمیر کا ایسا امتزاج تھا جو کبھی بھی پاکستانی نہیں بن سکا۔ ''سرگم'' کی تخلیق ہرگز ممکن نہ ہوتی اگر پاکستان نہ ہوتا۔ یہ جو آج لہک لہک کر سُر بکھیرے جا رہے ہیں یہ ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر پاکستان کا سبز پاسپورٹ موصوف کے پاس نہ ہوتا، لیکن یہ دھرتی تو ایسے میر جعفر و صادق کا بوجھ اٹھاتی آئی ہے۔ اسی لئے تو اس دھرتی نے قیامت تک رہنا ہے کیوںکہ یہ اپنے سینے میں نگینوں کے ساتھ ایسے کھوٹے سکوں کو بھی سمو لیتی ہے جو اس کے قابل بھی نہیں ہوتے۔
کچھ عرصہ پہلے ایک حقانی صاحب عقل کُل سمجھے جاتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ ان کے ہاتھ میں خنجر تھا اور وطن عزیز کی کمر تھی۔ جتنی اعلیٰ جگہ پر حقانی پہنچے اتنی اہم جگہ پر پہنچنا شاید کسی محب وطن پاکستان کے بس کی بات بھی نہیں۔ کیوںکہ حقانی جیسے غدار ہی شاید اعلیٰ ترین دستاویز تک پہنچنے کی سکت رکھتے ہیں۔ آج کیا کسی کی بھی توجہ اس جانب ہے کہ حقانی جیسا غدار کیسے وطن عزیز میں اہم ترین عہدے تک پہنچا؟ وہ دوران ملازمت کیسے پاکستان کا ملازم ہونے کے بجائے اپنے آقاؤں کو خوش کرتا رہا؟ وہ کن کن لوگوں سے ملا؟ وطن عزیز کو کس کس طرح سے نقصان پہنچایا؟ کون سی اہم دستاوایزت اس کی دسترس میں تھیں؟ وہ کہاں کہاں پہنچائیں گئی ہوں گی؟ اور ان سے وطن عزیز کی بنیادوں کو کس طرح آج تک کھوکھلا کیا جاتا رہا ہوگا۔
عدنان سمیع کو بھی ہم حقانی پارٹ ٹو کہیں تو شاید ہرگز بے جا نہیں ہوگا۔ محترم کو شاید اس بات کی خبر نہیں کہ غداری انہوں نے اس دیس کے ساتھ نہیں کی بلکہ شاید اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون سے کی ہے، کیوںکہ شاید وہ یہ بھول گئے کہ ان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان کی فضائیہ کا اہم حصہ رہتے ہوئے اپنی بہادری کی بنیاد پر ستارہِ جرات کے حقدار ٹھہرے۔ عدنان سمیع کو تو شاید اپنے والد سے آگے کسی کا نام تک یاد نہ ہو لیکن انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریت ترک کی ہے بلکہ اپنے دادا جنرل محفوظ جان کی وراثت سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
عدنان سمیع خان کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کے والد کو بہترین نوجوان جنگی ہوا باز کی ٹرافی پاکستان ائیر فورس کا حصہ رہتے ہوئے ملی نہ کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے۔ عدنان سمیع خان جس سبز پاسپورٹ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بنیادی طور پر انہوں نے اپنے باپ کی توہین کی ہے کیوںکہ اسی سبز پاسپورٹ رکھنے والے ان کے والد صاحب کو کم و بیش 7 میڈلز سے نوازا گیا۔ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ جو کوئی کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کرے اس کا احسان زندگی بھر نہیں بھولتے لیکن عدنان سمیع خان صاحب شاید احسان فراموشوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو احسان کو بھی حق سمجھتی ہے۔ اسی لئے تو وہ یہ بھول بیٹھے کہ ان کے والد کو علاج کے لئے بیرون ملک اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے بھجوایا تھا۔
عدنان سمیع خان کو صرف سبز پاسپورٹ نہیں بلکہ ان 21 توپوں کی سلامی سے بھی دستبرداری کا اعلان کردینا چاہیئے جو ان کے والد کی وفات پر اُن کو ملی کیوںکہ جو شخص سبز پاسپورٹ کے قابل نہیں وہ کیسے ایک ایسے شخص کی وراثت سنبھال سکتا ہے جس کے بدن پر وردی رہی ہو۔ عدنان سمیع خان کی جانے سے اس دھرتی پر کوئی حرف نہیں آئے گا کیوںکہ یہ دیس حقانی، عدنان اور بہت سے ایسے دیگر لوگوں کو اپنے پاؤں پر چلنا سکھا چکی ہے جو اسی کی جڑیں کھوکھلا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عدنان سمیع نے تو شاید اس دھرتی سے ایک ایسا وجود ہٹا کر اس قوم کو ایک تحفہ دیا ہے جو ایک بوجھ کی شکل میں اس پر مسلط تھا۔
پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنے کے لئے کسی بھی مخصوص شخصیت کی محتاجی نہیں ہے بلکہ یہ تو اتنی وسیع دھرتی ہے جو اپنے دشمنوں تک کو پالتی ہے اور پھر ان کی زبان کے نشتر بھی سہتی ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آستینوں کے سانپ پہچانیں۔ ہم اپنے اندر موجود ایسے دشمنوں کو پہچانیں جو صرف کوٹ کے کالر پہ سبز ہلالی پرچم سجاتے ہیں لیکن دلوں میں دشمن سے وفاداری کے عہد نبھا رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی شناخت بہت ضروری ہے کیوںکہ حقانی کی طرح کے یہ لوگ ہی ہیں جو وطن کے راز دشمنوں کو پہنچانا فرض عین سمجھ لیتے ہیں۔ عدنان جیسے لوگوں کی منزل شاید پاک دھرتی ہو ہی نہیں سکتی جو سبز پاسپورٹ کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے اپنے باپ کے مردہ وجود کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا بھی نہیں دیکھ پاتے۔
[poll id="774"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔
مجھے آج اپنے ایک عزیز رانا صاحب کے الفاظ سمجھ آ رہے ہیں جو ایک طویل عرصہ دیارِ عرب کے باسی رہے۔ وہ اکثر جب ہمیں بتاتے تھے کہ تقسیم کے اس وقت کا میں گواہ ہوں جب پردے لٹ رہے تھے، جب گردنیں کٹ رہی تھیں، جب سروں کے مینار قائم ہو رہے تھے، رانا صاحب اس وقت اپنے بزرگوں کے کندھوں پہ سوار نئے دیس میں پہنچے تو ایک جگہ دشمن نے حملہ کردیا۔ لاشوں کے درمیان گرتے پڑتے پاکستان پہنچے۔ اسی لئے آج پاکستان کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں اور یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ وطن ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کی رگوں میں بے وفائی کا بیج تناور درخت بن چکا ہے بلکہ یہ دیس ان لوگوں کی وراثت ہے جن کی رگوں میں شہیدوں کا لہو آج بھی زندگی بن کر دوڑ رہا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ عدنان سمیع خان صاحب کے بوجھ سے اس دھرتی کو نجات ملی کیوں کہ یہ دھرتی بہت سے کم عقلوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ایک بازو قلم کروا چکی ہے۔ قصور عدنان سمیع کا ہرگز نہیں، وہ افغان و کشمیر کا ایسا امتزاج تھا جو کبھی بھی پاکستانی نہیں بن سکا۔ ''سرگم'' کی تخلیق ہرگز ممکن نہ ہوتی اگر پاکستان نہ ہوتا۔ یہ جو آج لہک لہک کر سُر بکھیرے جا رہے ہیں یہ ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر پاکستان کا سبز پاسپورٹ موصوف کے پاس نہ ہوتا، لیکن یہ دھرتی تو ایسے میر جعفر و صادق کا بوجھ اٹھاتی آئی ہے۔ اسی لئے تو اس دھرتی نے قیامت تک رہنا ہے کیوںکہ یہ اپنے سینے میں نگینوں کے ساتھ ایسے کھوٹے سکوں کو بھی سمو لیتی ہے جو اس کے قابل بھی نہیں ہوتے۔
کچھ عرصہ پہلے ایک حقانی صاحب عقل کُل سمجھے جاتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ ان کے ہاتھ میں خنجر تھا اور وطن عزیز کی کمر تھی۔ جتنی اعلیٰ جگہ پر حقانی پہنچے اتنی اہم جگہ پر پہنچنا شاید کسی محب وطن پاکستان کے بس کی بات بھی نہیں۔ کیوںکہ حقانی جیسے غدار ہی شاید اعلیٰ ترین دستاویز تک پہنچنے کی سکت رکھتے ہیں۔ آج کیا کسی کی بھی توجہ اس جانب ہے کہ حقانی جیسا غدار کیسے وطن عزیز میں اہم ترین عہدے تک پہنچا؟ وہ دوران ملازمت کیسے پاکستان کا ملازم ہونے کے بجائے اپنے آقاؤں کو خوش کرتا رہا؟ وہ کن کن لوگوں سے ملا؟ وطن عزیز کو کس کس طرح سے نقصان پہنچایا؟ کون سی اہم دستاوایزت اس کی دسترس میں تھیں؟ وہ کہاں کہاں پہنچائیں گئی ہوں گی؟ اور ان سے وطن عزیز کی بنیادوں کو کس طرح آج تک کھوکھلا کیا جاتا رہا ہوگا۔
عدنان سمیع کو بھی ہم حقانی پارٹ ٹو کہیں تو شاید ہرگز بے جا نہیں ہوگا۔ محترم کو شاید اس بات کی خبر نہیں کہ غداری انہوں نے اس دیس کے ساتھ نہیں کی بلکہ شاید اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون سے کی ہے، کیوںکہ شاید وہ یہ بھول گئے کہ ان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان کی فضائیہ کا اہم حصہ رہتے ہوئے اپنی بہادری کی بنیاد پر ستارہِ جرات کے حقدار ٹھہرے۔ عدنان سمیع کو تو شاید اپنے والد سے آگے کسی کا نام تک یاد نہ ہو لیکن انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریت ترک کی ہے بلکہ اپنے دادا جنرل محفوظ جان کی وراثت سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
عدنان سمیع خان کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کے والد کو بہترین نوجوان جنگی ہوا باز کی ٹرافی پاکستان ائیر فورس کا حصہ رہتے ہوئے ملی نہ کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے۔ عدنان سمیع خان جس سبز پاسپورٹ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بنیادی طور پر انہوں نے اپنے باپ کی توہین کی ہے کیوںکہ اسی سبز پاسپورٹ رکھنے والے ان کے والد صاحب کو کم و بیش 7 میڈلز سے نوازا گیا۔ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ جو کوئی کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کرے اس کا احسان زندگی بھر نہیں بھولتے لیکن عدنان سمیع خان صاحب شاید احسان فراموشوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو احسان کو بھی حق سمجھتی ہے۔ اسی لئے تو وہ یہ بھول بیٹھے کہ ان کے والد کو علاج کے لئے بیرون ملک اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے بھجوایا تھا۔
عدنان سمیع خان کو صرف سبز پاسپورٹ نہیں بلکہ ان 21 توپوں کی سلامی سے بھی دستبرداری کا اعلان کردینا چاہیئے جو ان کے والد کی وفات پر اُن کو ملی کیوںکہ جو شخص سبز پاسپورٹ کے قابل نہیں وہ کیسے ایک ایسے شخص کی وراثت سنبھال سکتا ہے جس کے بدن پر وردی رہی ہو۔ عدنان سمیع خان کی جانے سے اس دھرتی پر کوئی حرف نہیں آئے گا کیوںکہ یہ دیس حقانی، عدنان اور بہت سے ایسے دیگر لوگوں کو اپنے پاؤں پر چلنا سکھا چکی ہے جو اسی کی جڑیں کھوکھلا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عدنان سمیع نے تو شاید اس دھرتی سے ایک ایسا وجود ہٹا کر اس قوم کو ایک تحفہ دیا ہے جو ایک بوجھ کی شکل میں اس پر مسلط تھا۔
پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنے کے لئے کسی بھی مخصوص شخصیت کی محتاجی نہیں ہے بلکہ یہ تو اتنی وسیع دھرتی ہے جو اپنے دشمنوں تک کو پالتی ہے اور پھر ان کی زبان کے نشتر بھی سہتی ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آستینوں کے سانپ پہچانیں۔ ہم اپنے اندر موجود ایسے دشمنوں کو پہچانیں جو صرف کوٹ کے کالر پہ سبز ہلالی پرچم سجاتے ہیں لیکن دلوں میں دشمن سے وفاداری کے عہد نبھا رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی شناخت بہت ضروری ہے کیوںکہ حقانی کی طرح کے یہ لوگ ہی ہیں جو وطن کے راز دشمنوں کو پہنچانا فرض عین سمجھ لیتے ہیں۔ عدنان جیسے لوگوں کی منزل شاید پاک دھرتی ہو ہی نہیں سکتی جو سبز پاسپورٹ کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے اپنے باپ کے مردہ وجود کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا بھی نہیں دیکھ پاتے۔
[poll id="774"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔