
سعید بک بینک نامی اس بک اسٹور کے مالک احمد سعید نے بتایا کہ جب انھوں نے والد کی وفات کے بعد اپنے خاندانی 3 منزلہ بک بینک کی ذمے داریاں سنبھالیں تو کئی بڑے بوڑھے ایسے آئے جو اپنے پرانے قرضے چکانا چاہتے تھے۔ بقول ان کے پہلے انھوں نے معذرت کی کہ وہ ان کتابوں کی قیمت ادا کرنے آئے ہیں جو انھوں نے بچپن میں کتابوں کی اس دکان سے چرائی تھیں۔ سعید کا کہنا تھا کہ ان کے والد سعید جان قریشی جن کا ستمبر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا ہے، اگر زندہ ہوتے تو اس بات سے خاصے محظوظ ہوتے کیونکہ ان کے نزدیک بچوں کا کتابیں چرانا ایک قابل معافی جرم اور مستقبل کے لیے سرمایہ کاری تھی کیونکہ ان ہی میں سے کچھ مستقبل کے اچھے کسٹمرز ثابت ہوں گے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق سعید بک بینک تین منزلہ ہے اور اس کی ایک منزل 42 ہزار مربع فٹ پر پھیلی ہوئی ہے۔ احمد سعید کے مطابق اللہ کے فضل و کرم سے اس بک اسٹور میں 2 لاکھ کتابیں ہیں جب کہ 40 لاکھ کتابیں اس کے 5 گوداموں میں رکھی ہوئی ہیں۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔