
خدمتِ خلق کا یہی ایک ذریعہ سمجھ میں آتا تھا۔ پڑھائی اتنے خلوص دل سے کی کہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ وہاں سے پڑھ کر نکلے تو انھوں نے شہر کے اسپتالوں کا حال دیکھا اور شہر کے فٹ پاتھوں پر رہنے والے غریبوں کی سیہ بختی دیکھی ۔ 50ء کی دہائی میں ہر طرف افراتفری تھی۔
جس کو جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں اپنا زیادہ وقت سڑکوں، گلیوں یا سول اسپتال میں گزارتے جہاں غریب ٹوٹے پڑے تھے اور ان کی سنوائی نہ تھی۔ وہ درد اور آزار میں مبتلا لوگوں کو جھڑکیاں کھاتے دیکھتے اور تلملا کر رہ جاتے۔ سوشلسٹ نظریات انھیں محبوب تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کا علاج مفت ہونے کے ساتھ ہی، ان کی عزت نفس کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ انھوں نے سول اور جناح اسپتالوں کے فٹ پاتھ پر بستر لگانے والے بیماروں اور ان کے تیمارداروں کو دیکھا جن کی وحشت زدہ آنکھیں دل کو برماتی تھیں اور جنھیں ہر طرف سے دھتکارا جاتا تھا۔
وہ ڈاؤ میڈیکل کالج سے پڑھ کر نکلے تو سرجری کے لیے ملنے والی ایک فیلوشپ پر انگلستان چلے گئے جہاں انھیں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے بے حد متاثر کیا۔
وہاں کے بیمار اسپتالوں کے دروازوں پر ایڑیاں رگڑ کر نہیں مرتے تھے اور انھیں کراچی شہر کی وہ بڑھیا یاد آتی تھی جو اپنے کانوں کی بالیاں ہتھیلی پر رکھے فریاد کررہی تھی کہ اس کے عوض کوئی اسے دوا فراہم کردے۔ این ایچ ایس کی کارگزاری دیکھ کر انھیں یقین ہوگیا کہ غریبوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے انھیں مفت طبی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔
وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے کہ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں تاکہ غریب بیماروں کا مفت علاج کرسکیں۔ ان کے دوست ان باتوں پر ہنستے اور اسے شیخ چلی کا خواب کہتے تھے لیکن وہ شیخ چلی نہیں سید ادیب الحسن رضوی تھے۔ انھوں نے جو خواب دیکھا تھا ، اسے پورا کر دکھا یا اور آج ان کا قائم کیا ہوا ادارہ SIUT دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔
سول اسپتال میں گردوں کی بیماریوں کے علاج کا وہ یونٹ جس کا چارج انھیں دیا گیا تو وہ 8 بستروں پر مشتمل تھا، آج 800 بستروں پر مشتمل ہے، سول اسپتال کے بیچوں بیچ دو شاندار عمارتیں سر اٹھائے کھڑی ہیں جن میں کراچی شہر ، اندرون سندھ اور سارے ملک سے آنے والے غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
روزانہ سیکڑوں مریضوں کا ڈائی لیسس ہوتا ہے، گردے ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں اور گردوں میں ہونے والی پتھریوں کا علاج ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں جگر کا بھی ٹرانسپلانٹ ہوا۔ ادیب صاحب یہ کام بھی کر گزرے۔ وہ انسانوں کو نئی زندگی بانٹتے ہیں۔ ادیب رضوی کے ساتھ گارڈ نہیں چلتے، وہ بلٹ پروف گاڑی میں سفر نہیں کرتے ۔ ادب اور ادبی سرگرمیوں سے انھیں گہرا شغف ہے، اسی لیے وہ ادبی تقریبات میں بھی نظر آتے ہیں۔ کراچی لٹریچر فیسٹول ہوا تو کئی سیشن ایسے تھے جن میں وہ پچھلی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ انھوں نے SIUT میں ایک ہال ادبی سرگرمیوں اور مختلف سماجی مسائل پر کانفرنسوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو پاکستان کے مشہور اور مرحوم بینکار آغا حسن عابدی کے نام سے منسوب ہے۔
کراچی لٹریچر فیسٹول میں ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزار سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کی سب سے چھوٹی بیٹی نور ظہیر ہندوستان سے شرکت کے لیے آئی تھیں۔ فیسٹول میں اس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی جو عصمت چغتائی کی خود نوشت ''کاغذی ہے پیرہن'' کا انگریزی ترجمہ ہے۔
یہ ترجمہ نور نے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔ ادیب رضوی اس سیشن میں موجود تھے اور نور کی کراچی میں موجودگی سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے SIUT میں ایک محفل رکھی جس میں ڈاکٹر نور ظہیر نے جو ادیب ہونے کے ساتھ ہی سماجی علوم کے ماہر ہیں ''ہمارے خطے میں محروم طبقات کی صحت اور تعلیم کی تباہ حالی'' کے موضوع پر ایک لیکچر دیا۔ ان دنوں ہر طرف گلوبلائزیشن کا چرچا ہے۔ اس حوالے سے نور کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا مظہر نہیں۔ اگر یہ نیا ہوتا تو ہمیں مصر میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران موئن جوڈروکی مہریں نہ ملتیں۔
اس روز محفل کی صدارت ہماری معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کررہی تھیں اور تقریب کی نظامت میرے حصے میں آئی تھی، نورظہیرکا تعارف کراتے ہوئے میں نے کہا کہ ''ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین اور ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزار اور ان کی ادیب اور ایکٹی وسٹ بیگم محترمہ رضیہ سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر ہمارے درمیان موجود ہیں۔
اس جوڑے نے ادبی اور عملی سطح پر پچھڑے ہوئے انسانوں کی خدمت میں زندگی بسر کی۔ سجاد ظہیر پاکستان آئے اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے لیے ہر مشقت اٹھائی۔ آخرکار وہ ہندوستان واپس گئے اور وہاں پارٹی کے کاموں میں آخری سانس تک مصروف رہے۔
نور ان کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں جو اپنے چہیتے باپ کے آدرشوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ جو زندگی گزاری اسے 'میرے حصے کی روشنائی' کے عنوان سے تحریرکیا۔ یہ کتاب اردو، انگریزی اور ہندی تینوں زبانوں میں شایع ہوچکی ہے اور ہمیں کمیونسٹ پارٹی کے دوستوں کی زندگی کے بارے میں جاننے کا مو قع دیتی ہے۔
نور ظہیر کی شخصیت کو اگر ہشت پہلو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وہ تین زبانوں کی ادیب ہیں۔ فنون لطیفہ سے ان کی گہری وابستگی انھیں اسٹیج پر لے گئی جہاں انھوں نے بچھڑے ہوئے لوگوں کی زندگی کی جھلکیاں ہمیں دکھائیں اور ان کی راحت کے لیے کام کیا۔ وہ رقص بھی کرتی رہیں۔
انھوں نے ہماچل پردیش کی بدھسٹ خانقاہوں میں شکستہ اور خستہ حال دیواری تصویروں کو سنورانے اور اجالنے کا کام کیا۔ انھیں ٹائم فیلوشپ اس مقصد کے لیے ملا کہ وہ 'شمالی ہند میں تھیٹر کے بدلتے ہوئے انداز' پر تحقیق کریں۔ وہ پاکستان آئیں اور یہاں سے واپس گئیں تو یہاں کی یادوں کو 'سرخ کارواں کے ہم سفر' کا عنوان دیا۔
انھوں نے مختصر کہانیاں لکھیں، ناول لکھے جن میں سے 'مائی گاڈ از اے وومن' بہت اہم ہے۔ اس میں بٹوارے سے پہلے اور بعد کے واقعات کو سمیٹا گیا ہے اور مسلمان عورت پر جو ستم ہوئے، یہ ناول ہمیں اس کی جھلکیاں دکھاتا ہے اس میں شاہ بانو کی داستان الم نظر آتی ہے۔
ان کی تازہ ترین کتاب میں حلالہ، متع، تین طلاق اور خلع جیسے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انھیں کئی اہم انعامات دیے گئے اور وہ شمالی ہند کی ایک اہم اور نمودار شخصیت ہیں۔ سجاد ظہیر صاحب نے اپنا خاصا وقت حیدر آباد اور سندھ کے دوسرے شہروں میں گذارا تھا اور وہاں ان کے بہت سے دوست تھے جو ان ہی کی طرح کامریڈ تھے۔
نور کے پاکستان آنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے والد کے دوستوں سے مل کر اس زمانے کو اپنی تحریر میں زندہ کرنا چاہتی ہیں۔ آکسفورڈ لٹریچر فیسٹول میں جب عصمت چغتائی کی سرگذشت 'کاغذی ہے پیرہن' کے انگریزی ترجمے کی محفل میں شامل لوگوں کے دلوں کو گرما کر جب وہ اسٹیج سے نیچے اتریں تو میں نے اندرون سندھ سے آنے والے بعض بزرگوں کو ان کے ہاتھ چومتے دیکھا ۔ سجاد ظہیر اور ترقی پسند تحریک سے ان لوگوں کی نہایت عقیدت اور محبت کا اظہار تھا جو وہ اس طرح کررہے تھے۔
ڈاکٹر ادیب رضوی اور ان کا بنایا ہوا ادارہ ان لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں جو استحصالی نظام کی چکی میں پستے ہیں، یہ سب قصہ کہانیوں کی سی باتیں محسوس ہوتی ہیں لیکن SIUT اور اس سے وابستہ بے شمار لوگ انسانوں کی خدمت پر مامور ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ڈاکٹر ادیب رضوی کی یہ روایت چلتی رہے اور یہ ادارہ اسی طرح لوگوں کی زخموں پر مرہم رکھتا رہے۔
اس کے ساتھ ہی ادبی محفلیں آراستہ کرکے ہم جیسے لوگوں کے علمی وادبی ذوق کی تسکین کا سبب بنے۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے میں نے ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد دی گی کہ انھوں نے اس محفل کو آراستہ کر کے نہ صرف نور ظہیر کے کام کو سراہا بلکہ ان کے والدین سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کی انقلابی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔
واقعی انقلاب اورخدمت کی یکجائی کا نام ڈاکٹر ادیب رضوی ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔