خدا کی مرضی یا انسانی غفلت

بے شک ہم خدا کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرسکتے لیکن ہمارا رب ہمیں بہتر انتظامات کرنے سے بالکل نہیں روکتا۔


ناصر تیموری December 09, 2016
ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ہمارے حکمران خدا کی مرضی کو اپنی نااہلی چھپانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یوں معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

بدھ کو چترال سے اسلام آباد جانے والا طیارہ حویلیاں میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں جنید جمشید سمیت 46 افراد شہید ہوگئے۔ یہ المناک حادثہ ناجانے کتنے بچوں کو یتیم، کتنی خواتین کو بیوہ اور کتنے ہی والدین کو اولاد کی نعمت سے محروم کر گیا۔ کہنے میں تو یہ سب آسان لگ رہا ہے، مگر اِس کا دُکھ وہی جانتا جس کا کوئی اپنا دنیا سے رخصت ہوا۔ لوگ اسے مشیت ایزدی یعنی خدا کی مرضی قرار دیتے ہیں، یقیناً یہ بات ایک حد تک بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں ہے، لیکن کیا ہم طیارے کی تباہی کی ذمہ داری کو محض خدا پر ڈال کر بری الذمہ ہوسکتے ہیں؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) دنیا کی سب سے خطرناک ایئرلائن ہے۔ خطرناک ایئرلائنز کی فہرست میں پی آئی اے کے ساتھ ایتھوپین ایئرلائنز ہے۔ جس میں حادثات اور لاپرواہی پر مبنی رویہ سب سے عام ہے۔ ذرائع ابلاغ سے یہ بھی خبر ملی کہ طیارے کے دونوں انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ پائلٹ کی بہن کے مطابق اے ٹی آر طیاروں کی بہت خراب حالت زار تھی۔

https://twitter.com/SarahJR__/status/806484361134637059

ایک رپورٹ کے مطابق اے ٹی آر طیاروں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کے انجن ساحلی علاقوں اور گرد آلود علاقوں میں پرواز کے لئے خطرناک ہیں اور ان میں آگ لگ جاتی ہے۔ اے ٹی آر طیارے فوکر طیاروں کے متبادل کے طور پر خریدے گئے تھے اور یہ چھوٹے ہونے کی بناء پر نچلی پرواز کرتے ہیں۔ چونکہ یہ طیارے گوادر، جیوانی، بہاولپور، سکھر جیسے علاقوں کے لئے استعمال ہورہے ہیں، اس لئے یہ مسلسل حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔

ان طیاروں کے بارے میں مسلسل شکایات کے بعد ستمبر 2016ء میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان طیاروں کے پرواز کرنے پر پابندی عائد کردی تھی، تاہم دباؤ کی بناء پر اس کی پرواز کی مشروط اجازت یہ کہہ کردی گئی تھی کہ ان کی مکمل اوور ہالنگ کرائی جائے۔ شہری ہوا بازی کے ذرائع کے مطابق 2007ء میں پہلا اے ٹی آر طیارہ گرنے کے بعد ان طیاروں کی مزید خریداری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے دباؤ کے باعث اطالوی و فرانسیسی کمپنی سے 12 مزید نئے اے ٹی آر طیارے خریدے گئے۔ ان طیاروں میں سے ایک طیارہ پاکستان آتے ہی لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے بعد 12 میں سے 11 طیارے پی آئی اے کے زیر استعمال رہے۔

ستمبر 2016ء میں سول ایوی ایشن نے مسلسل شکایات کے بعد پرواز کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد سے یہ طیارے گراؤنڈ کردیئے گئے، مگر پُر اسرار دباؤ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان کو پرواز کی مشروط اجازت دے دی تھی جس سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریگولیٹری کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں۔ ہر فضائی کمپنی اپنے طیاروں کے اضافی پرزہ جات کی بروقت فراہمی کے لئے بیک اپ معاہدے رکھتی ہے، تاہم ان طیاروں کی خریداری کے ساتھ پی آئی اے نے اس قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ اب پی آئی اے ان طیاروں کے پرزہ جات کے لئے سپلائیر گروپ پر انحصار کرتی ہے۔ خریداری کے ان معاہدوں میں کمیشن کے معاملات بھی زبان زد عام ہیں۔

جب پرزہ جات نہیں ملتے تو ان میں سے ایک طیارہ گراؤنڈ کردیا جاتا ہے اور اس کے پرزہ جات دوسرے طیاروں میں لگانا شروع کردیتی ہے۔ کم و بیش یہی معاملہ حال ہی میں لیز پر حاصل کئے گئے اے 320 طیاروں کا بھی ہے جس کی وجہ سے یہ طیارے بھی کسی وقت گراؤنڈ ہوسکتے ہیں۔

یہ معاملہ پی آئی اے کی خرابی تک محدود نہیں بلکہ چند روز قبل ریجنٹ پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ سے پانچ ڈاکٹروں سمیت 12 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ وہاں بھی غفلت کی انتہا ہوئی، فائر بریگیڈ کی رپورٹ کے مطابق ریجنٹ پلازہ کی آتشزدگی حادثاتی ہے، یعنی اس میں تخریب کاری کا عنصر نہیں ہے۔ ایک معائنہ ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ایک سال قبل ریجنٹ پلازہ کا معائنہ کیا گیا تھا اور ہوٹل مالکان کو خبردار کیا گیا کہ بجلی کے مخدوش نظام سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات ہیں۔ اسی ٹیم نے وزیراعلی ہاؤس سندھ کے قریب واقع ایک ہوٹل کا بھی معائنہ کیا تھا اور وہاں بھی بجلی کے نظام کو بوسیدہ قرار دیا تھا۔ اُس ہوٹل میں تو اللہ کے فضل سے اب تک کوئی حادثہ پیش نہیں آیا اور اُمید کرتے ہیں کہ ایسا وقت آنے سے پہلے پہلے وہاں کے معاملات میں بہتری آجائے، تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہیں ہوں۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ادارے کسی بھی حادثے کے کچھ گھنٹوں یا کچھ دنوں تک تو متحرک رہتے ہیں اور مختصر وقت کے لیے بالکل اُسی طرح کام کررہے ہوتے ہیں جو اُن کو پورا سال کرنے کی ضرورت ہے مگر پھر بتدریج اپنی اُسی پرانی غفلت کی ڈگر پر چلے جاتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ مغربی ممالک میں حادثات نہیں ہوتے۔ وہاں بھی حادثات ہوتے ہیں لیکن اگر وہاں رونما ہونے والے حادثات کی صورت میں اموات کی شرح پر غور کیا جائے تو وہ انتہائی کم ہوتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی انتظامیہ ہر قسم کے حادثات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہوتی ہے، اور جیسے ہی کوئی حادثہ ہوتا ہے فوری طور پر لوگوں کی مدد کے لیے پوری مشینری پہنچ جاتی ہے جو فوری طور پر لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے اپنا کام شروع کردیتی ہے۔

مملکت خداداد کا حکمراں طبقہ پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک ہے لیکن صورتحال اِس قدر خراب ہے کہ آج بھی وہ اور ان کے اہل خانہ علاج کے لئے لندن و دیگر غیر ملکی مقامات جاتے ہیں۔ یہ طبقہ دوسروں کو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی ترغیب دیتا ہے لیکن اپنا پیسہ باہر ملک بھیج دیتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب تک حکمراں اپنے ہی ملک میں علاج و معالجہ نہ کرائیں اور اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری نہ کریں تو اس وقت تک ملک کی حالت زار بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کو بہتر بنا کر حادثات اور اموات کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی محیر العقل بات نہیں۔

ہمارے سامنے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہے جہاں کم افرادی قوت کے ساتھ بہترین حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں۔ بے شک ہم خدا کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرسکتے لیکن ہمارا رب ہمیں بہتر انتظامات کرنے سے بالکل نہیں روکتا۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ہمارے حکمران خدا کی مرضی کو اپنی نااہلی چھپانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یوں معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

ریجنٹ پلازہ آتشزدگی اور حویلیاں میں طیارہ گرنے کو ہم خدا کی مرضی قرار دیں یا اپنی نااہلی؟ ویسے تو ہمیں انفرادی طور پر ہر حال میں اللہ کی رضا سے راضی رہنا چاہیئے لیکن ہم بدترین انتظام کے بجائے بہترین انتظامات اختیار کرکے بھی خدا کی رضا سے راضی رہ سکتے ہیں۔

[poll id="1280"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں

رائے

چانس

Apr 03, 2025 02:24 AM |

اچھی صحت

Apr 03, 2025 02:17 AM |