بھارتی اداکارہ پاکستان آکر مشکل میں پھنس گئی

سارہ خان سےویزہ ختم ہونےکےبعدبھی پاکستان میں قیام پر پوچھ گچھ ہورہی ہےلیکن بھارتی میڈیاافواہ پھیلارہاہےکہ وہ قید ہیں


ویب ڈیسک April 07, 2017
ڈرامہ سپنا بابل کا بدائی میں سادھنا کے نام سے مشہور اداکارہ سارہ پاکستان کی کسی جیل میں قید ہے، بھارتی میڈیا : فوٹو : فائل

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈراموں کی معروف اداکار سارہ خان پاکستان کی کسی جیل میں قید ہیں۔

ہمسایہ ملک بھارت بغیر تصدیق کے ہی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتا اور ہمیشہ ہی اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے گزشتہ ماہ بھی بھارتی میڈیا میں ایک خبر زیر گردش رہی جس میں کہا جاتا رہا کہ حضرت نظام الدین اولیاؓ کی درگاہ کے سجادہ نشین آصف نظامی اور ناظم نظامی پاکستان آکر لاپتہ ہوگئے ہیں اور بھارتی میڈیا نے ایک واویلا کھڑا کررکھا تھا اور بھارت کی جانب سے پاکستانی دفترخارجہ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا تاہم جب ایکسپریس نیوز نے آصف نظامی اور ناظم نظامی سے کراچی واپسی پر بات کی توانہوں نے بتایا کہ وہ اندرون سندھ دورے پر تھے جہاں موبائل فون کے سگنل نہیں آتے جس کے باعث بھارت میں موجود اپنے عزیز واقارب سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور اس طرح پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور بھارتی کوشش ناکام ہوگئی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: درگاہ نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین کی گمشدگی کا ڈراپ سین ہوگیا

اب بھارتی میڈیا نے نئی سازش تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی معروف ڈرامہ سریل سپنا بابل کا بدائی میں سادھنا کے نام سے کردار ادا کرنے والی سارہ خان پاکستان کی کسی جیل میں قید ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ سارہ خان ڈارمے کی شوٹنگ کرانے پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے قیام پذیر تھیں اور جب ویزے کی مدت ختم ہوگئی تو انہیں غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہنے کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اداکارہ سارہ خان نے ان تمام خبروں کی تردید کی اور انہیں افواہیں اور جھوٹ پر مبنی قراردیتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے قیام پذیر ہوں تاہم مجھے جیل بھیجنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔

سارہ خان کے میڈیا کوارڈینیٹر نے کہا ہے کہ میں اداکارہ کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہوں اور جیل میں جانے کی خبر درست نہیں سارہ خان ویزے کی میعاد بڑھانے کے لئے پاکستان میں مقیم ہیں۔

 

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں