ترک فوج شام کے صوبے ادلب میں داخل
ترک فوجی دستے مغربی ادلب کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں
ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فوجی دستے شام کے صوبے ادلب میں داخل ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 12گاڑیوں اور 80اہلکاروں پر مشتمل ترک فوج کا پہلا دستہ شمالی علاقے ادلب میں داخل ہوگیا ہے ۔ سرحد پر مقیم باشندوں اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادلب کے مختلف علاقوں میں ترک فوج کو گشت کرتے دیکھا ہے جو کہ مغرب کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے شمالی عراق سے متصل سرحد کو بتدریج بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عراق کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے بغداد حکومت سے تعاون کرنا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ترک صدر نے عراقی کردستان میں فوجی کارروائی کی دھمکی دیدی
واضح رہے کہ عراق،ترکی اور ایران نے کردستان آزادی ریفرنڈم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کردستان کے علاحدہ ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت کردعلاقے سے تیل کی ترسیل کو روکنا سرفہرست ہے۔
عراقی ریاست کردستان میں ترکی سے ملحقہ سرحد پر 15سے20فیصد کرد آباد ہیں جو اپنی آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترکی کا ماننا ہے کہ خطے سمیت انقرہ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں کرد مسلح جنگجووں کا ہاتھ ہے
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 12گاڑیوں اور 80اہلکاروں پر مشتمل ترک فوج کا پہلا دستہ شمالی علاقے ادلب میں داخل ہوگیا ہے ۔ سرحد پر مقیم باشندوں اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادلب کے مختلف علاقوں میں ترک فوج کو گشت کرتے دیکھا ہے جو کہ مغرب کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے شمالی عراق سے متصل سرحد کو بتدریج بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عراق کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے بغداد حکومت سے تعاون کرنا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ترک صدر نے عراقی کردستان میں فوجی کارروائی کی دھمکی دیدی
واضح رہے کہ عراق،ترکی اور ایران نے کردستان آزادی ریفرنڈم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کردستان کے علاحدہ ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت کردعلاقے سے تیل کی ترسیل کو روکنا سرفہرست ہے۔
عراقی ریاست کردستان میں ترکی سے ملحقہ سرحد پر 15سے20فیصد کرد آباد ہیں جو اپنی آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترکی کا ماننا ہے کہ خطے سمیت انقرہ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں کرد مسلح جنگجووں کا ہاتھ ہے