کراچی کے مختلف علاقوں میں 14 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ
بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا
شہر قائد میں گرمی کے موسم میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ پر شہری بلبلا اٹھے۔
کراچی میں چھٹی کے دن بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی چھٹی نہیں ہوئی اور مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے 14، 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش جاری ہے۔ بلدیہ، ملیر، لیاری، کورنگی، اورنگی، کیماڑی، گڈاپ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی کے علاقے سب سے ذیادہ متاثر ہیں۔ کے الیکٹرک نے شہر کے تمام مستثنیٰ علاقوں کو بھی نہیں بخشا اور وہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ ان میں ڈیفنس، کلفٹن، گلشنِ اقبال، پی ای سی ایچ ایس، اسکیم 33، گلشنِ جمال، شاہ فیصل، اولڈ سٹی ایریا شامل ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوشیڈنگ سے متعلق کے الیکٹرک کے الزامات مسترد
جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف 20 اپریل جمعے کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ اور آئندہ جمعے 27 اپریل کو ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر فکس اٹ نے بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دے کر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
دوسری طرف کےالیکٹرک کی ایک ہی تکرار ہے کہ جب تک پوری گیس نہیں ملتی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ سوئی سدرن گیس حکام کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک اربوں روپے کی نادہندہ ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی بند نہیں کی گئی۔
کراچی میں چھٹی کے دن بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی چھٹی نہیں ہوئی اور مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے 14، 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش جاری ہے۔ بلدیہ، ملیر، لیاری، کورنگی، اورنگی، کیماڑی، گڈاپ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی کے علاقے سب سے ذیادہ متاثر ہیں۔ کے الیکٹرک نے شہر کے تمام مستثنیٰ علاقوں کو بھی نہیں بخشا اور وہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ ان میں ڈیفنس، کلفٹن، گلشنِ اقبال، پی ای سی ایچ ایس، اسکیم 33، گلشنِ جمال، شاہ فیصل، اولڈ سٹی ایریا شامل ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوشیڈنگ سے متعلق کے الیکٹرک کے الزامات مسترد
جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف 20 اپریل جمعے کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ اور آئندہ جمعے 27 اپریل کو ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر فکس اٹ نے بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دے کر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
دوسری طرف کےالیکٹرک کی ایک ہی تکرار ہے کہ جب تک پوری گیس نہیں ملتی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ سوئی سدرن گیس حکام کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک اربوں روپے کی نادہندہ ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی بند نہیں کی گئی۔