زرعی ترقیاتی بینک کے 112 نائب صدور کی تنزلی کا فیصلہ کالعدم قرار
بینک کا بورڈ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فیصلہ کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ
ہائی کورٹ نے زرعی ترقیاتی بینک کے 112 نائب صدور کی تنزلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے زرعی ترقیاتی بینک کے 112 نائب صدور کی تنزلی کے خلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نائب صدور کی تنزلیوں کا فیصلہ بینک کے صدر نے کیا ٍجب کہ بینک کے صدر کے پاس پالیسی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ بینک کا بورڈ موجود ہی نہیں، یہ اہم حقیقت سپریم کورٹ سے چھپائی گئی، بینک کا بورڈ موجود نہ ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہو سکتا تھا زرعی ترقیاتی بینک کا بورڈ 3 سال تک تشکیل نہ دیا جا سکا، وفاقی حکومت کی بورڈ کی تشکیل میں ناکامی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل میں تاخیر کا باعث بنی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت نے 30 دسمبر 2020 کو بورڈ تشکیل دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بینک کے نئے بورڈ کو 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں افسران سے متعلق پالیسی فیصلہ کرے اور تین ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر افسران کی ترقی کا نوٹی فکیشن غیر مؤثر ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں عہدوں پر پرانے قانون کے تحت دوبارہ بھرتیاں کرنی ہوں گی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے زرعی ترقیاتی بینک کے 112 نائب صدور کی تنزلی کے خلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نائب صدور کی تنزلیوں کا فیصلہ بینک کے صدر نے کیا ٍجب کہ بینک کے صدر کے پاس پالیسی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ بینک کا بورڈ موجود ہی نہیں، یہ اہم حقیقت سپریم کورٹ سے چھپائی گئی، بینک کا بورڈ موجود نہ ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہو سکتا تھا زرعی ترقیاتی بینک کا بورڈ 3 سال تک تشکیل نہ دیا جا سکا، وفاقی حکومت کی بورڈ کی تشکیل میں ناکامی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل میں تاخیر کا باعث بنی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت نے 30 دسمبر 2020 کو بورڈ تشکیل دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بینک کے نئے بورڈ کو 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں افسران سے متعلق پالیسی فیصلہ کرے اور تین ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر افسران کی ترقی کا نوٹی فکیشن غیر مؤثر ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں عہدوں پر پرانے قانون کے تحت دوبارہ بھرتیاں کرنی ہوں گی۔