سندھ میں دو بلدیاتی نظام آئین کی خلاف ورزی ہے سول سوسائٹی
سندھ کےمفادات کے پیش نظرتمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرکےنئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج کریں,جماعتوں کےقائدین سے اپیل.
حیدرآباد سول سوسائٹی نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کیخلاف سندھ یونیورسٹی ماڈل اسکول سے ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا. ۔
ریلی ومظاہرے میں مختلف سیاسی وقوم پرست جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ احتجاج میں شریک مظفر کلہوڑو، پنھل ساریو اور دیگر کا کہنا تھا کہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ بلدیاتی نظام بنایا گیا ہے جوکہ ناقابلِ قبول اور پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی بھی ہے، جبکہ اس کے ذریعے ریاست کے اندر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انھوں نے سیاسی و قوم پرست جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی کہ سندھ کے مفادات کے پیش نظر تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج کریں اور اس کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ نظام واپس نہ لے لیا جائے۔
ریلی ومظاہرے میں مختلف سیاسی وقوم پرست جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ احتجاج میں شریک مظفر کلہوڑو، پنھل ساریو اور دیگر کا کہنا تھا کہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ بلدیاتی نظام بنایا گیا ہے جوکہ ناقابلِ قبول اور پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی بھی ہے، جبکہ اس کے ذریعے ریاست کے اندر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انھوں نے سیاسی و قوم پرست جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی کہ سندھ کے مفادات کے پیش نظر تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج کریں اور اس کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ نظام واپس نہ لے لیا جائے۔