وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا سیلاب متاثرین کے لیے 1 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان
وزیراعلیٰ کا ورثہ کیلیے فی کس 8لاکھ، مکان کے لئے چار لاکھ روپے بھی دینے کا اعلان
کراچی:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے حالیہ بارشوں اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ایک ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا۔
صوابی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا ٹھنڈکوئی میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں جہاں جاتا ہوں صرف اعلانات نہیں کرتا، صوبے کے کسی بھی علاقے میں جہاں نقصان ہو گا وہاں پہنچوں گا اور عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ 2010ء میں سوات و ملاکنڈ میں سیلاب آیا تو اس وقت ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت سارا کام کیا، سابق وزیر اعلی حیدر ہوتی کو میں چلینج کرتا ہوں اس وقت کیا وہ ملاکنڈ گئے تھے۔
محمود خان نے کہا کہ ناجائز حکومت کا مشیر بھی فوٹو سیشن کے لئے آیا تھا، سیلاب کی تباہ کاریوں کے معاملے پر سب صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہے ہیں، سیلاب و بارش کی وجہ سے جن افراد کی جان گئی اس کا نعم البدل کوئی نہیں،میں یہاں مرنے والے افراد کے ورثہ کے لئے فی کس 8لاکھ، مکان کے لئے فی کس چار لاکھ اور زمین پر فی ایکٹر فصل کے حوالے دس ہزار روپے کے حساب سے ادائیگی کا اعلان کرتا ہوں۔
علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے صوابی میں سیلاب متاثرین کے لیے 1 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا اور بجلی بحالی کی مد میں 20 کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آبی گزر گاہوں پر قائم کی جانے والی انکروچمنٹ خود ہٹا دیں، ضلعی انتظامیہ ایک ماہ کے اندر تمام ایسی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کردے گی، یہ اقدام مستقبل میں مزید سانحات سے بچنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کا سیلاب سے متاثرہ ضلع صوابی کا دورہ کیا اور تحصیل بام خیل اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین میں فی کس 3 لاکھ روپے کے چیکس تقسیم کیے اور پانچ لاکھ روپے فی کس مزید مالی مدد کا اعلان کیا۔ محمود خان نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت مکمل تباہ شدہ گھروں کے لیے چار لاکھ روپے فی گھر جبکہ جزوی طور پر نقصان زدہ گھروں کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار روپے فی گھر ادا کرے گی جبکہ تباہ شدہ فصلوں کے لئے معاوضے کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے فی ایکڑادا کرے گی۔
وزیراعلی کی محکمہ آبپاشی کے حکام کو نقصانات کا تخمینہ لگا کر رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی اور متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت مشکل وقت میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ ہر ممکن مدد کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے حالیہ بارشوں اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ایک ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا۔
صوابی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا ٹھنڈکوئی میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں جہاں جاتا ہوں صرف اعلانات نہیں کرتا، صوبے کے کسی بھی علاقے میں جہاں نقصان ہو گا وہاں پہنچوں گا اور عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ 2010ء میں سوات و ملاکنڈ میں سیلاب آیا تو اس وقت ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت سارا کام کیا، سابق وزیر اعلی حیدر ہوتی کو میں چلینج کرتا ہوں اس وقت کیا وہ ملاکنڈ گئے تھے۔
محمود خان نے کہا کہ ناجائز حکومت کا مشیر بھی فوٹو سیشن کے لئے آیا تھا، سیلاب کی تباہ کاریوں کے معاملے پر سب صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہے ہیں، سیلاب و بارش کی وجہ سے جن افراد کی جان گئی اس کا نعم البدل کوئی نہیں،میں یہاں مرنے والے افراد کے ورثہ کے لئے فی کس 8لاکھ، مکان کے لئے فی کس چار لاکھ اور زمین پر فی ایکٹر فصل کے حوالے دس ہزار روپے کے حساب سے ادائیگی کا اعلان کرتا ہوں۔
علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے صوابی میں سیلاب متاثرین کے لیے 1 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا اور بجلی بحالی کی مد میں 20 کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آبی گزر گاہوں پر قائم کی جانے والی انکروچمنٹ خود ہٹا دیں، ضلعی انتظامیہ ایک ماہ کے اندر تمام ایسی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کردے گی، یہ اقدام مستقبل میں مزید سانحات سے بچنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کا سیلاب سے متاثرہ ضلع صوابی کا دورہ کیا اور تحصیل بام خیل اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین میں فی کس 3 لاکھ روپے کے چیکس تقسیم کیے اور پانچ لاکھ روپے فی کس مزید مالی مدد کا اعلان کیا۔ محمود خان نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت مکمل تباہ شدہ گھروں کے لیے چار لاکھ روپے فی گھر جبکہ جزوی طور پر نقصان زدہ گھروں کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار روپے فی گھر ادا کرے گی جبکہ تباہ شدہ فصلوں کے لئے معاوضے کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے فی ایکڑادا کرے گی۔
وزیراعلی کی محکمہ آبپاشی کے حکام کو نقصانات کا تخمینہ لگا کر رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی اور متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت مشکل وقت میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ ہر ممکن مدد کرے گی۔