آسٹریلوی ریگستان میں گم ہونے والا تابکار کیپسول چھ روز بعد مل گیا
سیزیئم 137 بھرا کیپسول ایک ٹرک سے گرکر ریگستان میں گم ہوا ہے جسے چھ روز بعد ڈھونڈ نکالا گیا ہے
آسٹریلوی ماہرین اس وقت بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مصداق ایک بٹن نما کیپسول کو ریگستان میں تلاش کرتے رہے جس میں انتہائی تابکار مادے سیزیئم 137 بھرا ہوا ہے۔ اب چھ روز کی مسلسل محنت کے بعد یہ تابکار کیپسول دوبارہ مل گیا ہے جو ایک عام سکے بھی چھوٹا تھا۔
ایک بڑے بٹن کی جسامت کا یہ کیپسول 8 ملی میٹر لمبا اور 6 ملی میٹر چوڑا ہے۔ کیپسول ایک وسیع ریگستانی شاہراہ سے گزرتے ہوئے کہں گرگیا تھا جسے کان کنی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔ ریوٹنٹو نامی اس کمپنی نے معافی نامے کے ساتھ کہا ہے کہ ان کے ماہرین کیپسول کی تلاش میں دن رات مصروف رہے اور آخر کار وہ مل گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کیپسول سڑک کی ایک جانب ملا ہے اور خوش قسمتی سے اس پر ریت جمع نہیں ہوئی تھی۔
اس کیپسول سے گیما اور اور بی ٹا شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو 1400 کلومیٹر کے طویل سفر کے دوران کہیں گرا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق انہوں نے پہلے مرحلے میں پوری سڑک چھان ماری تھیں جبکہ اب اطراف کا جائزہ لیا جارہا تھا۔
اپنی غیرمعمولی تابکاری کی وجہ سے یہ اگلے 300 برس تک قریب آنے والے شخص کے لیے خطرات کی وجہ بن سکتا ہے۔ براہِ راست چھوجانے سے جلد جل سکتی ہے، ریڈیائی امواج سے کئی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور کینسر کے خطرات بھی موجود ہیں۔ تاہم یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب کوئی طویل عرصے تک اس کے قریب رہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی اس کیپسول کے پاس ایک میٹر کے فاصلے پر ایک گھنٹے تک کھڑا رہے تو اس سے 1.6 ملی سرویئنٹس تابکاری اس میں جذب ہوگی جو 17 ایکسرے کے بعد جذب ہونے والی اشعاع کے برابر ہے۔ تاہم ماہرین نے فوری طور پر اسے قبضے میں لے کر سیسے کےبنے ایک خاص ڈبے میں رکھا ہے جو تابکاری جذب کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم اب بھی دیگر ماہرین اس واقعے پر حیران ہیں کیونکہ سیزیئم 137 کو اٹھانے اور لے جانے کے سخت حفاظتی قوانین ہوتے ہیں اور انہوں نے اس واقعے کو غفلت قرار دیا ہے۔
ایک بڑے بٹن کی جسامت کا یہ کیپسول 8 ملی میٹر لمبا اور 6 ملی میٹر چوڑا ہے۔ کیپسول ایک وسیع ریگستانی شاہراہ سے گزرتے ہوئے کہں گرگیا تھا جسے کان کنی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔ ریوٹنٹو نامی اس کمپنی نے معافی نامے کے ساتھ کہا ہے کہ ان کے ماہرین کیپسول کی تلاش میں دن رات مصروف رہے اور آخر کار وہ مل گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کیپسول سڑک کی ایک جانب ملا ہے اور خوش قسمتی سے اس پر ریت جمع نہیں ہوئی تھی۔
اس کیپسول سے گیما اور اور بی ٹا شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو 1400 کلومیٹر کے طویل سفر کے دوران کہیں گرا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق انہوں نے پہلے مرحلے میں پوری سڑک چھان ماری تھیں جبکہ اب اطراف کا جائزہ لیا جارہا تھا۔
اپنی غیرمعمولی تابکاری کی وجہ سے یہ اگلے 300 برس تک قریب آنے والے شخص کے لیے خطرات کی وجہ بن سکتا ہے۔ براہِ راست چھوجانے سے جلد جل سکتی ہے، ریڈیائی امواج سے کئی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور کینسر کے خطرات بھی موجود ہیں۔ تاہم یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب کوئی طویل عرصے تک اس کے قریب رہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی اس کیپسول کے پاس ایک میٹر کے فاصلے پر ایک گھنٹے تک کھڑا رہے تو اس سے 1.6 ملی سرویئنٹس تابکاری اس میں جذب ہوگی جو 17 ایکسرے کے بعد جذب ہونے والی اشعاع کے برابر ہے۔ تاہم ماہرین نے فوری طور پر اسے قبضے میں لے کر سیسے کےبنے ایک خاص ڈبے میں رکھا ہے جو تابکاری جذب کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم اب بھی دیگر ماہرین اس واقعے پر حیران ہیں کیونکہ سیزیئم 137 کو اٹھانے اور لے جانے کے سخت حفاظتی قوانین ہوتے ہیں اور انہوں نے اس واقعے کو غفلت قرار دیا ہے۔