کراچی میں کمسن ملازم کے قتل کے الزام میں مالکن گرفتار
غفلت پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے ڈی ایس پی گلشن اقبال اور ایس ایچ او گلشن اقبال کو معطل کردیا
گلشن اقبال میں گھریلو مالکن کے تشدد سے بچہ ہلاک ہوگیا، واقعے کا مقدمہ درج کرکے گھر کی مالکن شیریں اسد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ غفلت پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے ڈی ایس پی گلشن اقبال اور ایس ایچ او گلشن اقبال کو معطل کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلشن اقبال تیرہ ڈی میں گزشتہ روز ایک مکان سے بچے کی لاش ملی، گھر کی مالک نے موقف اختیار کیا کہ بچہ رکشا سے گر کر زخمی شدید زخمی ہوگیا اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
تیرہ سالہ بچے رفیق کے والد مقبول کا کہنا ہے کہ اُن کے تین بچے شیریں اسد کے گھر پر ملازمت کرتے تھے، گھر کی مالکن نے تشدد کرکے رفیق کو قتل کیا ہے جبکہ ان کے دیگر دو بچوں کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔
مقتول رفیق کے بھائی رزاق اور رشید نے بھی پولیس کو بیان قلم بند کرادیا ہے، رزاق اور رشید کے مطابق ہم تینوں بھائی شیریں اسد کے گھر کا کام کرتے تھے، گھر کی مالکن بدترین تشدد کا نشانہ بناتی تھی، بچوں کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات ہیں۔
پولیس نے والد مقبول کی مدعیت میں گھر کی مالکن شیریں اسد کے خلاف تشدد اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا اور خاتون کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی۔
بچے کے قتل کے معاملے پر غفلت اور لاپروائی برتنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے ڈی ایس پی گلشن اقبال ابو طلحہ اور ایس ایچ او گلشن اقبال کو معطل کردیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر شیخ کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی ذمہ داری تھی بچے کی لاش کے بعد پوسٹ مارٹم کراتے اور تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرتے اور واقعے کا مقدمہ درج کرکے خاتون کو گرفتار کرتے مگر افسران نے نااہلی کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے قتل کیس میں لاپروائی کا ثبوت دیا گیا جس پر دونوں افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلشن اقبال تیرہ ڈی میں گزشتہ روز ایک مکان سے بچے کی لاش ملی، گھر کی مالک نے موقف اختیار کیا کہ بچہ رکشا سے گر کر زخمی شدید زخمی ہوگیا اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
تیرہ سالہ بچے رفیق کے والد مقبول کا کہنا ہے کہ اُن کے تین بچے شیریں اسد کے گھر پر ملازمت کرتے تھے، گھر کی مالکن نے تشدد کرکے رفیق کو قتل کیا ہے جبکہ ان کے دیگر دو بچوں کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔
مقتول رفیق کے بھائی رزاق اور رشید نے بھی پولیس کو بیان قلم بند کرادیا ہے، رزاق اور رشید کے مطابق ہم تینوں بھائی شیریں اسد کے گھر کا کام کرتے تھے، گھر کی مالکن بدترین تشدد کا نشانہ بناتی تھی، بچوں کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات ہیں۔
پولیس نے والد مقبول کی مدعیت میں گھر کی مالکن شیریں اسد کے خلاف تشدد اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا اور خاتون کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی۔
بچے کے قتل کے معاملے پر غفلت اور لاپروائی برتنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے ڈی ایس پی گلشن اقبال ابو طلحہ اور ایس ایچ او گلشن اقبال کو معطل کردیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر شیخ کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی ذمہ داری تھی بچے کی لاش کے بعد پوسٹ مارٹم کراتے اور تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرتے اور واقعے کا مقدمہ درج کرکے خاتون کو گرفتار کرتے مگر افسران نے نااہلی کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے قتل کیس میں لاپروائی کا ثبوت دیا گیا جس پر دونوں افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔