عمان کی میزبانی میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں ایران کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی جب کہ امریکی وفد کی قیادت ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ نے کی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عمان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے۔ آج مذاکرات کے 2 دور ہوئے تھے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دھمکیوں یا دباؤ سے اجتناب سب سے ضروری امر ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے آج ہونے والے مذاکرات میں اپنا یہ نقطہ واضح طور پر اٹھایا اور توقع رکھتے ہیں کہ اس پر عمل کیا جائے تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوئے اور دونوں طرف کے خیالات اور خدشات کا تبادلہ کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ اگر ہم اسی طرح مثبت راستے پر چل سکیں تو جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایک مثبت فریم ورک تک پہنچنا ممکن ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ اگلے مذاکرات کی تاریخ عمان میں اپنے ہم منصب سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
مذاکرات کے کامیاب ہونے کے لیے پُر اعتماد فضا کے ہونے کو ضروری قرار دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے جون میں ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملوں کا زکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے 3 جوہری مقامات پر حملے کے بعد پیدا شدہ اعتماد کی کمی کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔