ترلائی کلاں خود کُش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے،انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر حملے کا ماسٹر مائنڈ اور تین سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے نتیجے میں کیے گئے، حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور تین زخمی ہوگئے۔
ذرائع نے کہا کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسر تھا جو کہ پشاور کا رہائشی تھا، حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، وہ ایک ہفتے پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، وہ افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کے لیے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔
حملہ آور نے 4 سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں، تمام گولیوں کو خول جائے وقوع سے مل گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف مزید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔