بلوچستان کے مسائل پر اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک سے بات ہوسکتی ہے دہشتگردوں سے نہیں، رانا ثنااللہ

ہمارا دشمن معرکہ حق کا بدلہ اس طرح سے بلوچستان میں لیناچاہتا ہے، بیٹھ کر بات چیت کریں اور مسائل حل کریں، مشیر وزیراعظم


ویب ڈیسک February 08, 2026
فوٹو: فائل

لاہور:

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک کے مطالبات پر بات ہوسکتی ہے لیکن دہشت گردوں سے بات نہیں ہوگی۔

مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مالک اور سردار اختر مینگل صاحب سے عرصے سے احترام کا تعلق ہے، بلوچستان کے مسئلے کو پہلے سمجھنا ہوگا، ماضی میں جو ہوچکا اس پر افسوس کیا جاسکتا ہے سبق سیکھا جاسکتا ہے واپس نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے مسئلے کے دو پہلو ہیں، ایک مسئلہ میرے ان دو بھائیوں نے پیش کیا جبکہ دوسرے کو بشیر زیب وغیرہ پیش کررہے ہیں، ان دونوں مسائل کو حل کرنے کے مختلف طریقے ہیں ان کو مکس کرکے غلطی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بسوں سے لوگوں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے ہاتھ باندھ کر گولی مار دی جاتی ہے، ان کی لاشیں پورے پنجاب میں آتی ہیں، کبھی پنجاب سے کسی نے کہا کہ بلوچستان والوں کا بیڑا غرق ہو، کبھی نہیں کہا، وہ کہتے ہیں دہشت گردوں نے ظلم کیا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد ہیں وہ لاشوں پر 100،100 گولیاں مارتے ہیں، فیصل آباد میں اربوں روپے کا کاروبار بلوچستان کے لوگ کررہے ہیں کسی نے ان کو کچھ کہا، بلوچ ہمارے بھائی ہیں اور ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سردار اختر جان مینگل اور ڈاکٹر مالک صاحب ان کا ذمہ لے سکتے ہیں کہ ان کے یہ مطالبات ہیں اگر ریاست ان کو پورا کردے تو وہ ہتھیار رکھ دیں گے، قتل و غارت ختم کریں گے، دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے، دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنا بند کردیں گے تو آپ کریں بات، اس پر کیوں بات نہیں ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس سانحہ پر ہندوستانی میڈیا پر جشن منایا گیا، سردار اختر مینگل صاحب ایسے لوگوں کو نجات دہندہ نہیں کہتے ہیں کیونکہ وہ پلوں کو اڑا دیتے ہیں تاکہ کوئی مریض اسپتال نہ جاسکے، ایسے نجات دہندہ نہیں ہوتے اگر ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا تو کسی اور وجہ سے کیا ہو، دونوں چیزیں شروع بھی اکٹھی ہوئیں اور ختم بھی اکٹھی ہوں گی۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ایک بندہ ڈکیتی کرے اور قتل، ریپ بھی کرے تو قانون ایسے مجرم کو کیسے رعایت دے گا، چار گھنٹے عمارتوں کو جلایا گیا، لوگوں کو شہید کیا گیا، یہ وہ حقائق ہیں جس سے قومی اور عالمی میڈیا نے کوریج کیا، ان لوگوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بات کرنا آسان ہے لیکن سننا مشکل ہے، دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے ہمارا دشمن بھارت ہے، ہمارا دشمن معرکہ حق کا بدلہ اس طرح سے بلوچستان میں لینا چاہتا ہے، این ایف سی ایوارڈ سے اپنا حصہ لینے کی بات کبھی کی، یہ ہمارے مطالبات ریاست پورے کرے تو ہم ہتھیار رکھ دیں گے لہٰذا ایسے دہشت گردوں کا حل وہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مالک صاحب نے کہا کہ الیکشن میں اصل پارٹیز کو ہٹا دیا گیا اور مصنوعی قیادت لے آئے، ہاں اس پر بات ہوسکتی ہے، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں اضافے پر بات ہوسکتی ہے، وسائل کی تقسیم پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اختر مینگل صاحب اور ڈاکٹر مالک صاحب ذمہ داری لیتے ہیں تو آپ بات کریں، 18 ویں ترمیم پر اتفاق رائے کے بغیر کچھ نہیں ہونا چاہیے، بات تو آخر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ہونی ہے تو وہاں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد نواز شریف نے مخالفت کے باوجود آپ کو وزیر اعلیٰ بنایا، سات ماہ بعد آپ کے ثنا اللہ زہری صاحب مخالفت میں آگئے، 8 فروری کے الیکشن سے قبل 2018 کے الیکشن میں کیا ہوا اس کا کسی کو پتا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شفاف الیکشن کے لیے کس نے سیاسی جماعتوں کو روکا ہے، الیکشن کمیشن کے رولز اسٹیبلشمنٹ نے نہیں سیاسی جماعتوں نے بنانے ہیں، یہ مسائل پہیہ جام ہڑتال یا تشدد سے حل نہیں ہوں گے ۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ مل جل کر بیٹھیں بات چیت کریں اور مسائل حل کریں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت آپ کو ویلکم کرے گی۔

مقبول خبریں