پیکا متنازع ترمیمی قانون کیس: قانون سازی کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، جج کے ریمارکس

سمجھایا جائے کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے اور فیک نیوز پر کارروائی کیسے شروع ہوگی، جج اسلام آباد ہائی کورٹ


ویب ڈیسک February 09, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسے عدالت نے 6 مارچ تک ملتوی کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیتے ہوئے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہئیں وہ ایگزیکٹو کو دے دیے گئے ہیں اور جوڈیشل ٹریبونل ہونا چاہیے جس کا تقرر چیف جسٹس کی مشاورت سے ہو۔

وکیل کے مطابق سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ فیک انفارمیشن کا تعین کون کرے گا۔

اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ یہ بتایا اور سمجھایا جائے کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے اور فیک نیوز پر کارروائی کیسے شروع ہوگی۔

وکیل نے مزید کہا کہ قانون میں کمپلینٹ فائل کرنے کا نیا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی کمپلینٹ دائر کر سکتی ہے، جس سے کسی پراکسی کے ذریعے بھی درخواست دائر ہو سکے گی اور قانون کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔

وکیل کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ فیک انفارمیشن محض ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس سے کسی کو نقصان نہ ہو۔

سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ یہ قانون سازی ہے جسے حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

مقبول خبریں