لاہور:
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ بسنت کے موقع پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
بسنت کے کامیاب انعقاد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران صرف پتنگ اور ڈور کا کاروبار ہی تین ارب روپے سے زائد رہا جبکہ بانس، کاغذ، مزدوری اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی بھرپور روزگار حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانس فروش ہو یا پیپر فروش، مزدور ہو یا کاریگر، سب نے اس تہوار سے فائدہ اٹھایا۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کی بحالی سے نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملا بلکہ تین روزہ تہوار خیریت سے مکمل ہوا اور لاہور میں کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔
اسلام آباد میں پیش آنے والے سانحے پر ایسوسی ایشن نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جس کے باعث بسنت کی کئی تقریبات منعقد نہ ہو سکیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت کے ساتھ مل کر بسنت کے لیے ایس او پیز تیار کی گئیں، گڈے، پتنگ اور ڈور کے حوالے سے حکومت اور ایسوسی ایشن ایک پیج پر تھیں، جبکہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز نصب کی گئیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ مواقع پر قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ایک پنہ جو چار ہزار روپے میں دستیاب تھا، وہ 40 ہزار روپے تک فروخت ہوا۔
نمائندوں نے واضح کیا کہ ناجائز منافع خوری کے وہ بھی خلاف ہیں اور حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد نے چرخی استعمال کی وہ قانون سے بالاتر نہیں ہوں گے۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ پنجاب کے چار اضلاع میں پتنگ اور ڈور کی پروڈکشن کی اجازت دی گئی تھی تاہم 30 دسمبر کو اجازت ملنے کے بعد 15 دن دھند چھائی رہنے سے پروڈکشن متاثر ہوئی۔ آئندہ برسوں میں حکومت پروڈکشن کے عمل کو مزید کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ تہوار دوبارہ منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہر طرف بسنت کا رنگ تھا، ہر چھت پر پتنگ بازی نظر آئی اور ضلعی انتظامیہ نے بھرپور تعاون کیا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ کچھ افراد نے بغیر چیکنگ کے دوسرے شہروں سے پتنگیں اور گڈیاں لائیں، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں چیک کیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سال میں کئی بار بسنت منائی جائے کیونکہ یہ تہوار ثقافت، روزگار اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔