اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کو کم سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جب کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جج صاحب امپورٹڈ ہیں، لاہور سے آئے ہیں، لاہور سے آنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کیا کرنا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکار کو گولی مارنے کے کیس میں کم سزا دینے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ کا کم سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کیس کی سماعت کی۔
2022 میں پولیس اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکار کو گولی ماری گئی تھی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جج صاحب امپورٹڈ ہیں، لاہور سے آئے ہیں، لاہور سے آنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کیا کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سزا پانچ سال ہے تو جج نے سزا چار سال کیسے کردی۔ سپریم کورٹ کے احکامات بھی موجود ہیں۔
عدالت نے درخواست گزار کی سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔