امریکا ایران کیخلاف طویل جنگ کی تیاری کررہا ہے، امریکی عہدیداروں کا دعویٰ

پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، ایران


ویب ڈیسک February 14, 2026

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک طویل اور مسلسل فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے، جس کی منصوبہ بندی پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ممکنہ آپریشن میں نہ صرف ایران کے جوہری انفرااسٹرکچر بلکہ اس کی ریاستی اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق واشنگٹن کو توقع ہے کہ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی جانب سے ردعمل سامنے آئے گا جس سے امریکی افواج اور پورے خطے کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر رہا ہے اور ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز خطے کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہزاروں اضافی فوجی، جنگی طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ امریکا کے فوجی اڈے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں پہلے سے موجود ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جدید میزائل صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ جنگ سے خطے میں بڑے پیمانے پر تنازع کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسی دوران ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پابندیاں ختم کیے جانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات سخت مؤقف اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ قومی سلامتی کے مفاد میں مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

مقبول خبریں