چاند پر 60 سال قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے ایک سوویت خلائی جہاز کی قسمت کا معمہ شاید بالآخر حل ہو گیا ہے۔
1966 میں لُونا 9 کی اچانک گمشدگی نے سائنس دانوں کو حیران و پریشان کر دیا تھا، حالانکہ اس نے چاند کی سطح پر انسان کی بنائی ہوئی کسی شے کی پہلی نرم لینڈنگ کا تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا۔
خوش قسمتی سے یہ بغیر انسان کے بھیجا گیا مشن تھا۔ پہلی انسانی لینڈنگ تین سال بعد ناسا کے خلا باز بیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن نے کامیابی سے مکمل کی۔
تاہم، لونا 9 چاند سے متعلق سمجھ بوجھ میں ایک بنیادی سنگِ میل ثابت ہوا۔
اس نے یہ ثابت کر دیا کہ چاند کی سطح ٹھوس ہے اور وہاں اترنا ممکن ہے، نہ کہ جیسا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ تھا کہ وہ گردوغبار کا ایک گڑھا ہے جس میں کوئی شے دھنس سکتی ہے۔
یہ مشن کامیاب قرار پایا اور اس نے چاند کی حیرت انگیز تصاویر زمین پر ارسال کیں۔ تاہم، کچھ ہی عرصے بعد لینڈر غیر فعال ہو گیا اور پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا۔
لینڈر کے ناکارہ ہو کر لاپتا ہونے کے فوراً بعد اس کی کہانی ایک معمہ بن گئی۔
روبوٹ کی بیٹریاں صرف 75 گھنٹے تک ساتھ دینے کی سکت رکھتی تھیں، اس لیے طے تھا کہ وہ بالآخر خلائی ملبہ بن کر رہ جائے گا۔مگر اس کا اصل مقام ایک پراسرار راز بن گیا۔
ریڈیو ٹریکنگ کی غیر درست پیمائش، اس کا نہایت چھوٹا سائز، اور لینڈر کے اخراج کے وقت اچھلنے والے اثر نے اس کی تلاش کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔اسے ڈھونڈنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں۔
یوں لُونا 9 کی آخری آرام گاہ گزشتہ 60 برسوں سے ایک حل نہ ہونے والا معمہ بنی ہوئی ہے۔
تاہم، اب ماہرین کا خیال ہے کہ انہوں نے ممکنہ طور پر اس جگہ کا سراغ لگا لیا جہاں وہ موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی آبجیکٹ ڈیٹیکشن مصنوعی ذہانت استعمال کی گئی جس نے ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter کی جانب سے لی گئی سینکڑوں تصاویر کا باریک بینی سے تجزیہ کیا۔
تقریباً تین میل ضرب تین میل کے اس علاقے کو تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں اس کے موجود ہونے کا شبہ تھا۔ جائزے کے دوران کئی امید افزا مقامات کی نشاندہی کی گئی۔
سطح پر کچھ خراشوں جیسے آثار بھی ملے ہیں، جو ممکنہ طور پر لُونا 9 کے بے قابو ہو کر الٹ پلٹ ہونے کا ثبوت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، Lunar Reconnaissance Orbiter کے کیمروں کی ریزولوشن اتنی زیادہ نہیں کہ صرف تقریباً 58 سینٹی میٹر سائز کے لُونا 9 کو واضح طور پر دیکھا جا سکے۔اسی لیے ابھی تک کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔
مگر ماہرین پُرامید ہیں کہ جلد چاند پر پہنچنے والی نئی ٹیکنالوجی اس معمہ کا دوٹوک جواب فراہم کر سکے گی۔