واشنگٹن:
غیرملکی خبرایجنسی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے مقابلے میں بدترین کشیدگی کا باعث ہوسکتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
عہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم امریکا نے گزشتہ برس دو ایئرکرافٹ کیریئرز بھیج دیے تھے جب جون میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے امریکی فوج کو ایران کے خلاف اس طرح کے آپریشن سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ایران کے جوابی حملوں میں خطے کا تنازع وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مسلسل حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بمباری کی دھمکی بھی دی تھی اور جمعرات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا سفارتی حل کے برعکس اقدام انتہائی دلخراش ہوگا۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں وہ امریکا کے کسی بھی فوجی مرکز پر حملہ کرسکتے ہیں۔
امریکا کے فوجی بیسز پورے مشرق وسطیٰ میں بشمول اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں منگل کو جنیوا میں مذاکرات کریں گے جہاں امریکی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔