آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک، 700 زخمی

پاک فوج نے 226 افغان چیک پوسٹیں تباہ ،35 پر قبضہ کرلیا، 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کردیں


ویب ڈیسک March 04, 2026

اسلام آباد:

وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک اور 696 زخمی ہیں، 226 افغان چیک پوسٹیں تباہ ہوچکی ہیں اور 35 پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔

وزیر اطلاعات نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے دوپہر چار مارچ سہ پہر چار بجے تک کے اعداد و شمار جاری کردیے۔

عطا تارڑ کے مطابق اب تک آپریشن للحق میں اب تک 481 افغان طالبان مارے جاچکے ہیں اور 696 سے زائد زخمی ہیں، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی 226 چیک پوسٹیں تباہ ہوچکی ہیں اور 35 پر قبضہ کرلیا گیا ہے، 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کی جاچکی ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان بھر میں 56 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے 50 مختلف مقامات پر افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا، پاک فوج کی جانب سے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کی گئیں۔

پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن ، سمبازہ ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر پر موٴثر کارروائیاں کیں، ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستا ن کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ پاک فوج افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف ملکی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور یہ کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔

مقبول خبریں