جب بھی اس ملک میں کوئی نیا غلغلہ ہوتا ہے، کوئی نیا ’’گینگ‘‘ غالب آتا ہے، کوئی نیا ’’دادا‘‘ نئے ہتھیاروں سے لیس ہوکر آتا ہے اور اس کی برکت سے ہمارے گاؤں، محلے میں نئے نئے ’’کامیاب‘‘ سامنے آتے ہیں تو ہماری بھی شامت آجاتی ہے۔
ہماری آل اولاد، اس ’’کامیاب‘‘ کا نام لے اس کی تیز رفتار ترقی کا ذکر شروع کرتے ہیں، روڈ پتی سے کروڑ پتی ہوگیا، چھابڑی فروشی سے عمارت فروشی، سڑک فروشی، ملازمت فروشی پر آگیا ہے، سائیکل کی جگہ لینڈ کروزر میں پھرتا ہے۔
جھونپڑی سے لگژری بنگلے میں منتقل ہو گیا۔ پھر بات کو ایک خوبصورت بلکہ بدصورت موڑ دے کر اور تشبیب سے گریز کرکے، طعنوں کے پانی میں ’’تعریف‘‘ کے جوتے بگھو کر مارے جاتے ہیں۔
چھوڑو بے ایمان آدمی ہے، اگر ہمارے والد ایسے ہوتے تو ہم بھی آج’’ یہ یہ‘‘ ہوتے لیکن ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں، ہمارے’’ بابا‘‘ خودار، ایماندار ہیں۔ دولت کی جگہ ’’عزت‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں ورنہ ہمارے ’’بابا ‘‘کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
فلاں وہ تو کرپٹ آدمی ہے، چاپلوس ہے، مطلبی، موقع پرست ہے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔ ہمارے بابا کسی کی خوشامد نہیں کرتے، کسی کے آگے جھکتے نہیں، جھولی نہیں پھیلاتے ورنہ کیا کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
ٹھیک ہے انھوں نے، کرپٹ لوگوں کی طرح پیسہ نہیں کمایا ہے لیکن عزت کمائی ہے، نام کمایا ہے، مقام کمایا ہے۔ ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں۔
یہ تعریف میں لپٹے ہوئے الفاظ تما جوتے ہمیں کافی دیر تک مارے جاتے ہیں، جب بھی ایسا کوئی انقلاب آتا ہے، نئے انقلابیوں کو ساتھ لے کر بلکہ ملک پر ’’چھوڑکر‘‘ تو ہماری یہ درگت بنتی ہے۔
قائد عوام فخر ایشیا کے دور میں بھی ایسا ہوتا رہا، مردحق ضیاالحق کے دور میں بھی ہوتا رہا، جنرل مشرف کے دور میں بھی ہوا ،پھر چاروں صوبوں کی زنجیر، سب پر بھاری اور قرض اتارو ملک سنوارو میں بھی اور اب بانی اور وژن کے بابرکت زمانے میں بھی جاری ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہماری ناکامیوں میں ہماری اپنی بزدلی، نالائقی اور نااہلی کا ہاتھ ہے۔ لیکن اس میں کچھ بلکہ بہت’’شائبہ خوبی تقدیر‘‘ بھی ہمارے ساتھ برابر کی شریک رہا ہے۔
جب بھی ہم نے کسی’’بام‘‘ پر کمند ڈالنے کی کوشش کی توجب دو چار ہاتھ رہ گئے ، کہیں نہ کہیں سے کوئی درانتی آکر کمند کاٹ دیتی ہے اور ہم دھڑام سے وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں کا ہمارا خمیر ہے۔ بہت کوششیں کیں، کمندیں ڈالیں لیکن بام تک نہیں پہنچ پائے۔
تو امبر کی آنکھ کا تارا میرے چھوٹے ہاتھ
سجن میں بھول گئی یہ بات
بے شک ہمارے ہاتھ چھوٹے تھے اور ہم یہ بھولتے بھی نہیں تھے لیکن کبھی چاند ستارے مانگے بھی نہیں تھے اور کسی چھوٹے سے ستارے پر بھی قانع ہوجاتے لیکن…ویسے تو ’’لب بام‘‘کمند ٹوٹنے کے واقعات بہت ہیں لیکن
درد میں ڈوبے ہوئے نغمے ہزاروں ہیں مگر
ساز دل ٹوٹ گیا ہو تو سنائیں کیسے
بانگ حرم میں ہم سب ایڈیٹر سے چیف ایڈیٹر بننے والے تھے کہ یحییٰ خان خان نے کلہاڑا چلایا اور ہمارے اخبار کو بند کردیا۔ کچھ دوستوں کی مدد سے ریڈیو پاکستان پشاور پہنچے۔
وہاں بھی کچے سے پکے اسٹاف آرٹسٹ ہونے والے تھے کہ مولانا کوثر نیازی نے تلوار چلائی اور ہم پر بین لگ گیا۔ پشاور میں پی ٹی وی سینٹر کھلا تو اسکرپٹ پروڈیوسرکا پوسٹ ہمارے سامنے تقریباً پلیٹ میں سجا تھا لیکن نتیجہ نکلا تو ایک ایسے آدمی کا تقرر ہوا تھا جسے شعروادب کے ہیجے بھی نہیں آتے تھے البتہ مھکن بازی میں یدطولیٰ رکھتا تھا، اس کا یدطولیٹاپ تک پہنچ گیا تھا۔
ہماری ایک غزل سپرہٹ ہوئی، ریڈیو، ٹی وی اور فنکاروں میں بیسٹ سیلر بن گئی تو ایک فلمساز نے اسے اپنی پشتو فلم میں شامل کرلیا۔ کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آکر ہم نے اسے عدالتی نوٹس بھجوایا، ایک وکیل کے ذریعے دس ہزار سکہ رائج دے کر۔
اس طرف سے جرگے شروع ہوگئے۔ آخر اس غزل کے گائیک خیال محمدکی درخواست پر راضی ہوگئے، کہا صرف وکیل والے دس ہزار دے دیں۔
لیکن ابھی خیال محمد نے اس کے پاس یہ خوش خبری پہنچائی بھی نہیں تھی کہ اس کے ہارٹ اٹیک میں انتقال پرملال اور وفات حسرت کی خبر آگئی۔
یہ کمند بھی ٹوٹ گئی۔ ٹی وی پر ہمارا ایک مقبول مزاحیہ پروگرام چل رہا تھا، ایک سہ ماہی کے لیے منظور ہوا تھا لیکن لوگوں کی پسندیدگی کی وجہ سے اڑھائی سال تک چلا۔ پروگرام کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ سیکریٹریٹ میں ایک ڈپٹی سیکریٹری سے ملو۔
ہم ڈرتے ڈرتے پہنچے کیونکہ اس پروگرام میں ہم سرکاری محکموں کو بھی نشانہ بناتے تھے لیکن وہاں جاکر پتہ چلا کہ گورنر فضل حق ہمارے پروگرام کے فین اور بلاناغہ دیکھنے والے ہیں اور انھوں نے ہدایت کی ہے کہ ہمارا نام سول ایوارڈ کے لیے بھیجا جائے۔
اسی وقت بائیو ڈیٹا گھسیٹ کر دے دیا اور’’امید‘‘ سے ہوگئے لیکن جب ایوارڈز کا اعلان ہوا توا س میں ہمارا نام نہیں تھا، امید کا مس کیرح ہوگیا، پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارا نام فائنل ہوچکا تھا، پرائڈ آف پرفارمنس کے لیے لیکن آخری وقت یعنی عین لب بام ایک اور نے یہ درانتی چلائی کہ یہ شخص افغانستان آتا جاتا رہتا ہے، مجاہدین کا طوطی بولتا تھا، اس وقت صدر ضیاالحق تھا اور ایوارڈ صدر کے ہاتھوں دلوایا جاتا تھا۔
اب تہیہ کرلیا کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اب نہ امید سے ہوں گے نہ کسی بام کی ہوس پالیں گے، جب ہم زمین کے باسی ہیں تو خوامخوا اچھلنے سے کیا فائدہ؟ کافی عرصہ بعد اچانک ہمارے نام تمغہ امتیاز کا اعلان ہوگیا حالانکہ ہم نے کوئی درخواست، کوئی بائیوڈیٹا نہیں بھیجا تھا۔
یکن پتہ چلایا کہ یہ کام ہمارے دوست راج ولی شاہ خٹک ڈائریکٹر پشتو اکیڈیمی نے کیا تھا جب منہ میں دانت نہیں رہے تھے تو دانے لے کر کیا کرتے لہذا رد کردیا اور ’’صابرین شاکرین‘‘ میں ہوگئے کہ اگلے جہان میں اس جہان کے محروموں کے لیے بہت سارے ایوارڈز کا وعدہ ہے ۔
ویسے رد کرکے اچھا کیا، کیونکہ ہم قسمت کے ایسے ’’دھنی‘‘ ہیں کہ، بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے لیے کوئی خاص ایوارڈ شاید کمال فن یا اس طرح کا کوئی نام تھا فائنل ہوگیا تھا لیکن پھر ایک مجبوراور مفلوج ادیب کو ترجیحی بنیادوں پر دے دیا گیا۔
ایک اور سلسلہ کتابوں کا ہے، جب کوئی ہمارا فین پیش کش کرتا ہے کہ غیرمطبوعہ کتاب ہمیں دو، ہم چھپوادیتے ہیں تو اس بیچارے کو یا تو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے یا کینسر یا گردے فیل ہوجاتے ہیں یعنی یہ جا وہ جا۔ چنانچہ اس طرف سے بھی صبر کرلیا ہے، خوامخوا اپنے دوستوں کی جاں لینے سے کیا فائدہ۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں، ویسے ہیں۔