جرمن لگژری کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب اس نے اپنے صارفین کی گاڑیوں کے ڈیش بورڈ پر نئی ہالی ووڈ فلم ’’اسپائیڈرمین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کا اشتہار دکھانا شروع کردیا۔ مہنگی گاڑیوں کے مالکان نے اس اقدام کو اپنی نجی ملکیت میں غیر ضروری مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اشتہار گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی کنٹرول ڈسپلے پر ایک بینر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر صارف اس پر کلک کرے تو تقریباً 19 سیکنڈ کا فل اسکرین اینیمیشن چلتا ہے، جس میں موسیقی کے ساتھ گاڑی کی ایمبینٹ لائٹنگ بھی ہم آہنگ انداز میں روشن ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ویڈیو خودکار طور پر نہیں چلتی، تاہم اس کا ابتدائی بینر ہر صورت اسکرین پر نظر آتا ہے اور اسے مکمل طور پر بند کرنے یا مستقل طور پر ہٹانے کا کوئی آپشن موجود نہیں۔
اس اقدام پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ سمیت مختلف فورمز پر صارفین نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’50 سے 100 ہزار ڈالر کی گاڑی خریدنے کے بعد بھی اشتہارات دیکھنے پڑ رہے ہیں، اب شاید گاڑیوں کے لیے بھی ایڈ بلاکر کی ضرورت پڑ جائے۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے مطالبہ کیا کہ بی ایم ڈبلیو کو فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2023 میں بی ایم ڈبلیو کے سینئر نائب صدر اسٹیفن ڈوراخ نے واضح طور پر کہا تھا کہ کمپنی اپنی گاڑیوں کی اسکرین کو تجارتی اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرے گی کیونکہ یہ صارف کی ذاتی اور نجی جگہ ہے۔ تاہم تقریباً تین سال بعد کمپنی نے 70 سے زائد ممالک میں موجود اپنی گاڑیوں پر فلمی تشہیر شروع کردی، جس پر صارفین نے کمپنی کے سابقہ مؤقف پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
یہ اشتہاری مہم 27 جولائی سے شروع کی گئی اور 10 اگست تک جاری رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ صرف جولائی 2020 کے بعد تیار ہونے والی ان بی ایم ڈبلیو گاڑیوں میں دکھائی جا رہی ہے جو بی ایم ڈبلیو آپریٹنگ سسٹم 7، 8، 8.5 یا 9 اورX پر چل رہی ہیں۔
صارفین کے حقوق کے ماہرین نے بھی بی ایم ڈبلیو کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ معروف امریکی صارف حقوق کے ماہر ایڈگر ڈورسکی کے مطابق گاڑی کے ڈیش بورڈ کی اسکرین نیویگیشن، بیک اپ کیمرہ، موسمیاتی کنٹرول اور دیگر ضروری فیچرز کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ نجی گاڑی میں بیٹھے صارف کو اشتہارات دکھانے کے لیے۔ ان کے بقول گاڑی خریدنے والا شخص یہ توقع نہیں رکھتا کہ اسے اپنی ذاتی ملکیت میں بھی تجارتی تشہیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب یہ اشتہار سونی پکچرز کی فلم ’’اسپائیڈرمین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کی عالمی تشہیری مہم کا حصہ ہے، جسے ہالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی مارکیٹنگ مہم میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مہم کی میڈیا ویلیو تقریباً 309 ملین ڈالر رہی، جبکہ فلم نے عالمی باکس آفس پر ابتدائی دنوں میں 932 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس بھی کیا۔
سونی پکچرز نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں میں اشتہار دکھانے کے فیصلے سے متعلق سوالات کا جواب صرف بی ایم ڈبلیو ہی دے سکتی ہے، جبکہ کمپنی کی جانب سے تاحال اس تنازع پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔