’غریبوں اور لاوارثوں کے سہارے‘ ایدھی ہومز کے دفتر میں 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی

4 مسلح افراد بینک سےرقم آتے ہی داخل ہوئے اورملازمین کی تنخواہ و بے سہارا بچوں کے ماہانہ وظائف کی رقم لے گئے، انتظامیہ


منور خان August 07, 2026

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ پر قائم فلاحی ادارے ایدھی ہومز میں ڈکیتی کی واردات ہوئی، 4 مسلح ملزمان 65 لاکھ روپے لے کر فرار ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایدھی ہومز سہراب گوٹھ کے دفتر پر انتظامیہ نے ملازمین اور لاورارث بچوں کو ماہانہ وظائف تقسیم کرنے کیلیے بینک سے 65 لاکھ روپے کی رقم منگوائی۔

اس دوران چہرے ڈھانپے چار مسلح ملزمان دفتر میں داخل ہوئے اور بینک سے لائی گئی رقم 65 لاکھ روپے کیش لے کر فرار ہوگئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایدھی ہومز کے کھارادر میں قائم دفتر پر بھی ڈکیتی کی واردات پیش آچکی ہے۔

اکتوبر 2014ء میں کھارادر میں واقع مرکزی ایدھی سینٹر (عبدالستار ایدھی کے دفتر) میں ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی، جس میں مسلح ملزمان عبدالستار ایدھی کو یرغمال بنا کر نقد رقم اور سونا لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے حکام نے ایس ایچ او کھارادر کو معطل بھی کیا تھا۔

فلاحی ادارے میں انتظامی امور سنبھالنے والے سعد ایدھی نے ایکسپریس کو بتایا کہ انہیں شک ہے کہ واردات میں کوئی موجودہ یا سابق ملازم ملوث ہے کیونکہ جس دفتر میں رقم موجود تھی ڈاکو سیدھا وہاں پر پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ بینک سے رقم آتے ہی ملازمین اور لاوارث بچوں میں وظائف کی تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہونا تھا مگر اُس سے پہلے ملزمان پہنچ گئے۔ شبہ ہے ڈاکو ساری صورتحال سے واقف تھے اس لئے رقم پہنچتے ہیں آئے اور واردات کر کے فرار ہوگئے۔

واضح رہے کہ سہراب گوٹھ پر فلاحی ادارے کا بڑا مرکز موجود ہے جہاں شہر کا سب سے بڑا سرد خانہ بھی ہے۔

واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پہنچ کر شواہد اکھٹے کیے جبکہ ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران نے ملازمین و حکام سے معلومات حاصل کیں۔

اُدھر وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ سندھ نے ڈکیتی کی واردات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری اور رقم برآمدگی کی ہدایت کردی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگانے کا حکم دیا اور کہا کہ ایدھی سینٹر غریبوں اور لاوارثوں کا سہارا ہے، ایسے ادارے میں ڈکیتی ناقابل قبول ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ایدھی انتظامیہ سے فوری رابطے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی فوری جانچ پڑتال کرکے ملزمان کو انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ پولیس جدید تفتیشی ذرائع اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگائے اور لوٹی گئی رقم کی جلد از جلد برآمدگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والا قابلِ احترام فلاحی ادارہ ہے، ایسے فلاحی ادارے کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ پولیس افسران فوری طور پر ایدھی انتظامیہ سے رابطہ کرکے واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل کریں، واقعے کی ہر پہلو سے شفاف اور مؤثر تفتیش کرکے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے، فلاحی اور سماجی اداروں کے اطراف حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں اور فلاحی اداروں کے جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج

ایدھی ہوم میں ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج سامنے آگئی جس میں چار مسلح ملزمان چہرہ چھپا کر دفتر میں داخل ہوئے اور رقم لے کر فرار ہوگئے۔