چین: مصنوعی ذہانت کا خطرناک مشورہ، 25 ایکڑ فصل راتوں رات تباہ

کسان کو اے آئی اسسٹنٹ کی جانب سے کیڑے مار دوا کے استعمال سے متعلق دیے گئے مشورے پر عمل کرنا مہنگا پڑ گیا


ویب ڈیسک August 11, 2026

چین میں ایک کسان نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اسسٹنٹ کی جانب سے کیڑے مار دوا کے استعمال سے متعلق دیے گئے مشورے پر عمل کرنے کے بعد اس کی 25 ایکڑ فصل راتوں رات تباہ ہوگئی۔

مقامی رپورٹس کے مطابق صوبہ آنہوئی کے شہر چوزہاؤ سے تعلق رکھنے والا 67 سالہ کسان گزشتہ ایک برس سے زرعی معاملات میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہا تھا۔ وہ فصلوں کی دیکھ بھال سے لے کر کھاد ڈالنے اور زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی تک مختلف امور میں اے آئی سے مشورے لیتا تھا۔

شروع میں اے آئی کے مشوروں سے اسے کامیابی ملتی رہی، جس کے باعث اس کا اعتماد بڑھتا گیا۔ بعد ازاں اس نے اے آئی کی ہدایات پر بغیر کسی ماہر سے تصدیق کیے اندھا دھند عمل کرنا شروع کر دیا۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب کسان نے تل کی فصل میں جڑی بوٹیوں اور کیڑوں پر قابو پانے کے لیے اے آئی سے بہترین طریقہ علاج دریافت کیا۔ اے آئی کی جانب سے تجویز کردہ کیمیائی علاج پر عمل کیا گیا لیکن نتیجہ انتہائی تباہ کن نکلا اور کھیت میں موجود نومولود پودوں کی بڑی تعداد مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

زرعی ماہرین کے مطابق اس نقصان کی بڑی وجہ فلوفیناسیٹ نامی جڑی بوٹی مار دوا بنی، جو اگر انتہائی احتیاط اور مخصوص طریقے سے استعمال نہ کی جائے تو تل کی فصل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

یوں ایک ایسے کسان (جو ایک سال تک اے آئی کے مشوروں سے فائدہ اٹھاتا رہا) کو ایک غلط مشورے نے بھاری مالی نقصان سے دوچار کر دیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ کیا زرعی اور دیگر حساس شعبوں میں اے آئی پر مکمل انحصار محفوظ ہے؟ ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال میں اے آئی کے مشورے کو حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے مستند زرعی ماہرین اور ماہرینِ فصل سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔