کراچی:
جماعت اسلامی کے تحت پیٹرولیم لیوی کے خلاف آج ملک بھر میں چار مقامات پر دھرنے جاری ہیں، لاہور میں حافظ نعیم نے خطاب میں اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہےگا،کراچی میں سندھ حکومت اور پولیس کی رکاوٹوں، شیلنگ کے باوجود ہزاروں افراد گورنر ہاؤس تک پہنچ گئے۔
ایکسپریس کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی کے خلاف اور پیٹرول کی قیمتیں فوری طور پر کم کرنے کے لیے 7 اگست کے ملک گیر احتجاج کے بعد اگلے مرحلے میں اتوار 16 اگست کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سندھ، بلوچستان و کے پی کے میں گورنر ہاؤسز پر دھرنوں کا آغاز ہوگیا۔
حکومتی بریفنگ سننے اسلام آباد نہیں جائیں گے، جس نے بات کرنی ہے دھرنے میں آئے، حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی زبردستی کا بھتہ اور جگا ٹیکس ہے، حکومت پٹرول کی قیمت کے ساتھ ٹیکس بھی بڑھا دیتی ہے، حکمران عیاشیاں ختم کریں پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، حکومت نے راستہ روکنے کی کوشش کی تو دھرنا ’’حکومت گراؤ تحریک‘‘ میں تبدیل ہو جائے گا۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی گورننس ناکام ہوچکی، حکمرانوں نے پورے نظام کو تہس نہس کر دیا ہے۔
یہ بات انھوں نے مال روڈ پر چیئرنگ کراس میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کہی۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، قائمقام سیکریٹری جنرل نذیر جنجوعہ، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے وزرا پر مشتمل کمیٹی بنانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومتی کمیٹی کی بریفنگ نہیں چاہیے، جس کو بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آکر ہم سے بات کرے، وزیراعظم شہباز شریف سن لیں ہم بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائیں گے۔
لاہور میں دھرنے کا آغاز نماز عصر کے بعد ہوا، شدید گرمی میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ جماعت اسلامی کے حق میں نعرے لگائے اور حکمرانوں سے مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات کیے۔
شرکا نے جماعت اسلامی کے پرچم اور مہنگائی کے خلاف نعروں پر مشتمل کتبے اٹھا رکھے تھے۔ دھرنے میں حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر بھی شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی، مال روڈ کی فضا ’’حافظ حافظ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی جبکہ کارکنان نے پارٹی پرچم لہراتے ہوئے اپنے قائد کا استقبال کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے خود بھی شرکا سے نعرے لگوائے اور بعد ازاں خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عظیم جدوجہد کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، 7 اگست کو ملک بھر میں 510 سڑکیں بند کرکے تاریخ رقم کی، کراچی اور پشاور میں بھی تاریخی دھرنے شروع ہوچکے ہیں، جبکہ لاہور کے تاریخی چوک میں عوام پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی منظم اور عوام کی حقیقی جماعت ہے، ہماری جدوجہد کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم، مہنگائی اور عوام دشمن نظام کے خلاف ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ پٹرولیم لیوی لگانا آئی ایم ایف کی شرط ہے، لیکن حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں، عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے حکمران اپنے اخراجات کم کریں اور مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کریں۔ پٹرول 225 روپے فی لٹر کیا جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، ہم اپنے مطالبات منوانے کے لیے بیٹھے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکمرانوں کے پیچھے ہٹنے تک دھرنا جاری رہے گا اور جدوجہد جاری رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گورنرز ہاؤس کراچی اور پشاور کے باہر بھی دھرنا جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں عوام اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔عوام اپنے حقوق کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جدوجہد جاری رہے گی۔
کراچی
کراچی میں دھرنے کے شرکاء شہر بھر سے امراء اضلاع و دیگر ذمہ داران کی قیادت میں قافلوں کی صورت میں سندھ ہائی کورٹ نزد مسجد خضراء جمع ہوئے اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں پیدل مارچ کی صورت میں پریس کلب سے ہوتے ہوئے گورنر ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے۔
دھرنے کے دوران پولیس کی جانب سے پرامن کارکنان پر آنسو گیس شیلنگ کی گئی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ ترجمان جماعت اسلامی کراچی کے مطابق مظاہرین کے مطابق پولیس نے گورنر ہاؤس کے باہر اسٹیج بنانے پر شیلنگ کی۔ شیلنگ کے بعد کارکنان مشتعل ہو گئے اور انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ مشتعل کارکنان نے گورنر ہاؤس کی جانب جانے کی کوشش بھی کی۔

احتجاج کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کر رہے تھے۔ وہ دیگر ذمہ داران کے ہمراہ کارکنان کے ساتھ گورنر ہاؤس کے باہر موجود تھے۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر جماعت اسلامی کی قیادت نے فوری مداخلت کی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے کارکنان سے کہا کہ وہ پرامن رہیں اور قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ قیادت کی کوششوں سے صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا۔
دوسری جانب یہ دیکھنے میں آیا کہ جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤس پر احتجاجی دھرنے میں پولیس کے مطابق غلطی سے آنسو گیس شیل فائر ہوگیا تھا جس کے سبب کارکنان مشتعل ہوگئے۔ کارکنان نے گورنر ہاؤس جانے کی کوشش کی۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے صورتحال کو کنٹرول کرلیا۔
منعم ظفر خان نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کے ہزاروں شرکاء سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھاری بھرکم بھتہ ٹیکس ہر صورت واپس لینا ہوگا، آئی پی پیز کے نام پر کیا جانا والا دھندا ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ حکمران سن لیں کہ جماعت اسلامی تمہارا تعاقب جاری رکھے گی، پورے ملک میں ہونے والے دھرنے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز مافیا کے خلاف پورے ملک میں آواز بلند کی۔ کے الیکٹرک کے ظلم کے حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت نے کراچی کے عوام کو آگاہ کیا۔ یہ وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے عوام کے جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ختم کرنے کے بجائے عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ فارم 47 والے حکمران اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف جب وزیر اعظم نہیں تھے تو کہتے تھے کہ کراچی کو پیرس اور پانی کا مسئلہ حل کردوں گا لیکن جب وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی آئے تو 24 سے زائد گاڑیوں کے پروٹوکول میں آئے اور چلے گئے۔ فارم 47 کے پیداوار وں کا موضوع عوامی مسائل نہیں بلکہ آپس میں فرینڈلی اپوزیشن ہے۔ جماعت اسلامی شہر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
دھرنے سے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امیر ضلع ایئر پورٹ محمد اشرف، امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ، امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج، امیر ضلع غربی مدثر انصاری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ دھرنے کے شرکاء پر امن طور پر گورنر ہاؤس کے سامنے موجود ہیں اور دھرنا جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں دھرنے کا 15 روز کا شیڈول بھی تیار کر لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کے باعث گورنر ہاؤس کو جانے والے راستے عام ٹریفک کے لیے بند کرتے ہوئے شاہراہوں پر کنٹینر لگا دیے ہیں۔ میٹروپول، پی آئی ڈی سی ودیگر شاہراہوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں اور اطراف کی شاہراہوں پر ٹریفک اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
کارکنان کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرے اور پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
ریلی کے شرکاء اور پولیس آمنے سامنے بھی آئے، شرکاء نے نعرے بازی کی، پولیس، آر آر ایف کمانڈوز اور لیڈی پولیس گورنر ہاؤس کے اطراف موجود رہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر جبکہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پشاور
جماعت اسلامی نے گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے دھرنا دے دیا، دھرنا 15 روز تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جماعت اسلامی نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج میں شریک ہوں۔
گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے دھرنے کے آغاز سے قبل دھرنا پنڈال میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے صوبائی نائب امیر اور دھرنا کے انچارج میاں صہیب الدین کاکاخیل کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کی۔ انہوں ںے اعلان کیا کہ چاروں صوبوں کی طرح گورنرہاؤس پشاور کے سامنے ہونے والا آج کا احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ظالمانہ اضافے اور پیٹرول کی فی لیٹر 120روپے سے زائد لیوی ٹیکسز کا خاتمہ نہیں کرتی جماعت اسلامی کی یہ ملک گیر احتجاجی تحریک جاری رہے گی،ہم نے دھرنے کے لئے ابتدائی طور پر 15دنوں کا شیڈول تیار کرلیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی وسطی کے امیر عبدالواسع پریس کانفرنس کرتے ہوئے(فوٹو : سوشل میڈیا)
دھرنے کے پہلے روز نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے دھرنے میں شرکت کی۔ گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے دھرنے کے لئے جماعت اسلامی نے 40فٹ لمبا موبائل اسٹیج تیار کر رکھا ہے جس پر مرکزی صوبائی اور ضلعی قائدین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ پنڈال میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے دھرنے کے پہلے روز خیبرپختونخوا کے وسطی اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔
دھرنے سے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ صوبائی امیر عبدلواسع، نائب امیر میاں، صہیب الدین کاکاخیل، جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان، سابق صوبائی وزیر اور حق دو پشاور تحریک کے صدر کاشف اعظم خلیل,جماعت اسلامی یوتھ کے صوبائی صدر شاہ حسین درانی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ دھرنے میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے بھی شرکت کی۔