ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی مسئلہ نہیں، اصل رکاوٹ امریکی پالیسی ہے، تہران

ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر مذاکرات جاری ہیں، اسماعیل بقائی


ویب ڈیسک August 17, 2026

تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے کسی نئے ثالث کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ امریکی حکومت کا طرزِ عمل اور اس کی پالیسی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں اور اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

بقائی کے مطابق بعض یورپی ممالک کی جانب سے بھی دوطرفہ رابطوں کے دوران اپنی رائے کا اظہار اور اچھی خدمات فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کرنا فطری بات ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی نیا ثالث سامنے آگیا ہے یا اسے باضابطہ طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی چیلنج ثالثی کا معاملہ نہیں۔ ان کے بقول اصل مسئلہ امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر، غلط اندازے اور ایسی پالیسیوں پر اصرار ہے جنہیں ایران کے مطابق ماضی میں کئی مرتبہ ناکام ثابت کیا جاچکا ہے۔

اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود سکیورٹی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بحری راستے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے میں وقت لگ رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں، متعدد فریقوں کی موجودگی اور بعض رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز، خطے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی عدم تحفظ کی صورتحال امریکی اور اسرائیلی غیر قانونی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

بقائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیر غور طریقہ کار کا مقصد دونوں ساحلی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسا طریقہ کار تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ایران اور عمان کے خودمختار حقوق کے تحفظ کے ساتھ تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

بقائی نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے باوجود ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ بیان کو حتمی شکل دینے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے محفوظ بحری نظام قائم کرنے پر سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس راستے سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل کی صورتحال پر عالمی منڈیوں کی بھی گہری نظر ہے۔