راولپنڈی:
جدید سائنسی ترقی نے پنجاب بھر میں کھیلے جانیوالے 15 کے قریب صدیوں پرانے سالہ قدیم بھرپور مفت کی ورزش کے کھیل ختم کردیے جو آہستہ آہستہ دم توڑتے جارہے ہیں۔
برصغیر میں یہ روایتی کھیل پنجاب کا خاصا تھے جو ہر گلی محلہ میں کھیلے جاتے، لڑکے بنٹے پٹھو گرم کھیل رہے ہوتے تو قریب بیٹھی لڑکیاں کیکلی،گیٹے اور شٹاپو،کوکلا چپھاکی کھیل کر دل بہلاتیں۔
ان دیسی کھیلوں میں دیسی کشتی،ملاکھڑا،کبڈی،گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، لنگڑا شیر،وانجی ،رسی پھلانگنا،چھوٹے چھوٹے پتھروں کے گیٹے کھیلنا، بنٹے ،آنکھ مچولی ،لکن میٹی،چور سپاہی، سائیکل ٹائر چلانا شامل تھے۔
یہ کھیل جسمانی پھرتی، طاقت اور اجتماعی خوشی کا بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے،روایتی گلی ڈنڈا میں ایک لکڑی کا چھوٹا ڈنڈا گلی اور بڑا ڈنڈا ہوتا ہے،اس میں نشانہ بازی اور دور تک ڈنڈا پھینکنے کا مقابلہ ہوتا ،پٹھو گرم میں پتھر کے ٹکڑوں کو گرا کر دوبارہ ترتیب دینا ہوتا ہے،دوسری ٹیم گیند مار کر کھلاڑیوں کو آؤٹ کرتی۔
کھدو کھوندی دیسی ہاکی کی طرح کا ایک روایتی کھیل تھا جو کھلے میدانوں میں کھیلا جاتا،کبڈی اور ملاکھڑا (کشتیاں ) طاقت اور آزمائش کا یہ روایتی اکھاڑہ تھیں،آنکھ مچولی اور لکن میٹی،بچوں کے یہ روایتی کھیل اب گلیوں سے غائب ہو چکے ہیں۔
ان میں سے خاص کھیل کیکلی لڑکیوں کیلئے تھا جس میں دو لڑکیاں اپنے ہاتھوں کو پکڑکر دائرے میں گھومتی،اس کاایک مقبول گیت ساتھ مشہور تھا ،ککلی کلیر دی،پگ میرے ویر دی دوپٹہ میرے بھائی دا،فٹے منہ جوائی دا جانا ہوگا۔
ہرا سمندر کھیل ،کچھ لڑکیاں ایک دائرے میں ٹھہرکر بازوئوں کو جوڑتیں،ایک لڑکی درمیان میں ہوتی ،دائرے کا علاقہ سمندر سمجھا جاتا،سٹاپو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں جانب سے کھیلا جاتا،یہ کھیل ایک چھوٹے صحن میں کھیلا جاتا،لکن میٹی میں ایک ٹیم چھپتی ہے اور دوسری اسے تلاش کرتی۔
کوکلا چھپاکی یہ بھی ایک ہمہ جنس بچوں کا کھیل ہے، بچے دائرے بناکر بیٹھتے اور وہ بچہ جس کے ہاتھ میں کپڑا ہوتا،دائرے میں گاتے ہوئے گھومتا،اس کھیل کے دوران گایا جانے والا گیت اس طرح ہے۔