جم جانے والے نوجوانوں کے لیے پروٹین شیک کتنا ضروری ہے؟ ماہرین نے اہم بات بتادی

فٹنس اور باڈی بلڈنگ کے بڑھتے رجحان کے ساتھ نوجوانوں میں پروٹین شیک اور سپلیمنٹس کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے


ویب ڈیسک August 20, 2026

فٹنس اور باڈی بلڈنگ کے بڑھتے رجحان کے ساتھ نوجوانوں میں پروٹین شیک اور سپلیمنٹس کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے، تاہم طبی ماہرین کے مطابق ہر نوجوان کو اضافی پروٹین کی ضرورت نہیں ہوتی اور بغیر ضرورت سپلیمنٹ لینا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

بیلر یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسی جریدے پروسیڈنگز میں شائع ہونے والی طبی تحقیق میں پروٹین سپلیمنٹس کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پروٹین پاؤڈر کو ایک ایسی چیز قرار دیا گیا ہے جو درست ضرورت کے تحت فائدہ مند ہوسکتی ہے، لیکن غیر محتاط استعمال مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

بلوغت میں پروٹین کیوں اہم ہے؟

ماہرین کے مطابق نوجوانی اور بلوغت جسمانی نشوونما کا اہم مرحلہ ہے، جس میں پروٹین پٹھوں کی تعمیر اور مرمت کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی، ہارمونز اور انزائمز کی تیاری اور مدافعتی نظام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم صحت مند نوجوانوں کی اکثریت اپنی ضرورت کا پروٹین عام غذا سے حاصل کرسکتی ہے۔ دودھ، دہی، انڈے، دالیں، پھلیاں، سویا، مچھلی، چکن، کم چکنائی والا گوشت، خشک میوہ جات اور بیج پروٹین کے قدرتی ذرائع ہیں، اس لیے صرف جم جانے کی بنیاد پر پروٹین شیک شروع کرنا ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا دیکھ کر سپلیمنٹ لینا مناسب نہیں

ماہرین کے مطابق بہت سے نوجوان جم، کھیلوں یا سوشل میڈیا پر فٹنس ویڈیوز دیکھنے کے بعد پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔ صرف دوستوں، جم ٹرینرز یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے مشورے پر سپلیمنٹ لینا مناسب نہیں۔

البتہ وہ نوجوان جو انتہائی سخت جسمانی تربیت کرتے ہیں، عام خوراک سے مطلوبہ پروٹین حاصل نہیں کرپاتے یا کسی مخصوص طبی مسئلے کی وجہ سے اضافی پروٹین کے محتاج ہیں، انہیں ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کی نگرانی میں سپلیمنٹ تجویز کیا جاسکتا ہے۔

زیادہ پروٹین سے پٹھے زیادہ نہیں بنتے

پروٹین کی مقدار بڑھاتے جانا پٹھوں کی نشوونما کی ضمانت نہیں۔ ماہرین کے مطابق مضبوط اور بہتر پٹھوں کے لیے باقاعدہ ورزش کے ساتھ مناسب کیلوریز، بھرپور نیند، جسم کو مطلوبہ آرام اور جینیاتی عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔

ضرورت سے زیادہ پروٹین لینے کی صورت میں اضافی کیلوریز جسم میں جمع ہوسکتی ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جن کی جسمانی سرگرمی محدود ہو۔

ہر پروٹین پاؤڈر یکساں نہیں

بازار میں دستیاب بعض پروٹین سپلیمنٹس میں پروٹین کے علاوہ اضافی چینی، مصنوعی مٹھاس، جڑی بوٹیوں سے حاصل کردہ اجزا، اضافی کیلوریز اور بعض محرک اجزا بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ تمام اجزا ہر فرد کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بعض سپلیمنٹس کے معیار اور اجزا کی مکمل جانچ نہ ہونے کی صورت میں ایسی چیزیں شامل ہونے کا خدشہ رہتا ہے جن کا پیکیجنگ پر واضح ذکر موجود نہ ہو۔

کن نوجوانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؟

گردوں کی بیماری یا بعض میٹابولک امراض میں مبتلا نوجوانوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر زیادہ پروٹین والے سپلیمنٹس استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ اسی طرح اگر کوئی نوجوان عام کھانا چھوڑ کر روزانہ متعدد پروٹین شیک پر انحصار کرنے لگے، انتہائی سخت ڈائٹ اختیار کرے یا پروٹین پاؤڈر لینے کے بعد پیٹ کی تکلیف محسوس کرے تو اسے معاملے کو نظرانداز کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

شیک متوازن غذا کا متبادل نہیں

ماہرین کے مطابق پروٹین شیک کو مکمل غذا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ عام خوراک سے پروٹین کے ساتھ فائبر، صحت مند چکنائیاں، وٹامنز، کیلشیم، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی حاصل ہوتے ہیں، جو نوجوانوں کی مجموعی جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔

لہٰذا نوجوانوں کے لیے صحت مند طرزِ زندگی کی بنیاد متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور مناسب آرام ہے۔ پروٹین سپلیمنٹ صرف اس وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب واقعی اس کی ضرورت ہو اور بہتر طور پر ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کی رہنمائی حاصل ہو۔