’اگر سب کچھ تباہ کردیا تو پھر اتنی بڑی پابندیاں کیوں؟‘، ایران کا امریکا کو طنزیہ جواب

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اقتصادی پابندیاں ایک اہم محاذ بن چکی ہیں


ویب ڈیسک August 24, 2026

ایران نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے اعلان کردہ بڑے اقتصادی دباؤ کی مہم کو مسترد کرتے ہوئے اسے امریکی دعووں سے متضاد قرار دیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں امریکی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک طرف دعویٰ کر رہا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت ختم کردی گئی، اس کی 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ ہوگئی ہیں اور اس کا جوہری پروگرام بھی دفن کردیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتیں واقعی مکمل طور پر ختم کردی گئی ہیں تو پھر امریکا کو تاریخ کی سب سے بڑی مالی کارروائی شروع کرنے اور اپنے تمام اداروں اور طاقتوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

کاظم غریب آبادی نے امریکی اقتصادی دباؤ کے اعلان پر طنزیہ انداز میں سوال کیا، ’’کیا یہ فتح ہے یا امریکا کی شکست کا اعتراف؟‘‘

ان کا یہ بیان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی شروع کرنے کی بات کی تھی۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی اقتصادی پابندیوں اور مالی دباؤ کو جنگ کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھ رہا ہے اور واشنگٹن کے اس دعوے کو چیلنج کر رہا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر ختم کردی گئی ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اقتصادی پابندیاں ایک اہم محاذ بن چکی ہیں۔ واشنگٹن ایران کی معیشت، تیل کی آمدنی اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران امریکی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔