پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے اغوا ہونے والی بچی کی عدم بازیابی پر رکن اسمبلی نے ایوان میں دھرنا دینے کا عندیہ دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ہری پور سے اغوا ہونے والی کمسن بچی آیت کے معاملے پر صوبائی اسمبلی میں رکن اسمبلی شازیہ جدون نے معاملہ اٹھایا۔
اس پر معاون خصوصی ملک عدیل نے کہا کہ بچی کو اغوا کیا گیا ہے اور پولیس اس کیس کی تفتیش کررہی ہے لہذا اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
خاتون رکن اسمبلی شازیہ جدون نے کہا کی بچی کے اغوا میں ملوث افراد کے حوالے سے تفتیش کی جائے اور اُسے بحفاظت بازیاب کروایا جائے۔
شازیہ جدون نے کہا کہ معصوم بچی کو بازیاب نہ کیا گیا تو ایوان میں دھرنا دوں گی۔
صوبائی وزیر اکبر ایوب نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ہری پور میں نہیں ہوتے مگر یہ گھناونا جرم ہوا ہے، کیس میں ملوث ملزمان گرفتار بھی ہوئے اور مزید ملزمان کی نشاندہی کررپے ہیں، ایک ایک گھر اور ایک ایک جگہ تلاش کی جارہی ہے، پولیس نے امید دلائی ہے لاپتہ بچی کو بازیاب کرلیا جائے گا۔
توجہ دلاؤ نوٹس
دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی میں بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے توجہ دلاونوٹس جمع کرادیا، خواتین اراکین اسمبلی اشبر جدون، فائزہ ملک، شازیہ جدون سیدہ سونیا کی جانب سے توجہ دلاو نوٹس اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا۔
نوٹس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پورے صوبے میں بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے واقعات بڑھ رہے ہیں ضلع ہری پور کے مختلف علاقوں سے تین بچوں کی گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو سوشل میڈیا اور اخبارات میں بھی زیر بحث ہیں، ایسے واقعات نہ صرف والدین بلکہ پورے معاشرے میں شدید تشویش اور بے چینی کا باعث بن رہے ہیں۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام کو بچوں کے اغواء اور گمشدگی کے واقعات کی روک تھام ، لاپتہ بچوں کی فوری بازیابی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے لئے مؤثر اور واضح ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف کا خاتمہ کیا جا سکے۔