امریکا جانے والوں کیلئے بڑا جھٹکا، H-1B ویزا کی فیس ایک لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کرنے کی تیاری

H-1B ویزا امریکی کمپنیوں کو خصوصی شعبوں میں مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے


ویب ڈیسک August 25, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکنوں کے لیے H-1B ویزا کی فیس میں غیر معمولی اضافے کی تجویز پیش کردی ہے۔

نئی تجویز کے تحت نئے H-1B ویزا کے لیے 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر کی فیس عائد کی جاسکتی ہے، جس سے امریکا میں ملازمت کے خواہش مند غیر ملکی کارکنوں اور انہیں ملازمت دینے والی کمپنیوں پر بڑا مالی بوجھ پڑے گا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے پیر کو اس حوالے سے مجوزہ ضابطہ جاری کیا۔ اس تجویز پر عوام کو 30 دن تک اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے گا، جبکہ امکان ہے کہ حتمی ضابطہ رواں سال کے اختتام تک نافذ کیا جاسکتا ہے۔

یہ فیس اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو ماضی میں H-1B ویزا کے لیے ادا کی جاتی تھی۔ مختلف حالات کے مطابق اس ویزا کی فیس عموماً تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک ہوتی تھی، تاہم نئی تجویز کے بعد فیس میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

H-1B ویزا امریکا میں موجود کمپنیوں کو خصوصی شعبوں میں مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں۔ یہ ویزے عام طور پر تین سے چھ سال تک کی مدت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال بھی H-1B ویزا کے لیے 1 لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کی تھی، تاہم اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ رواں سال جون میں ایک وفاقی جج نے قرار دیا کہ یہ فیس غیر قانونی ہے اور حکومت کو اسے وصول کرنے سے روک دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی زیر سماعت ہے۔

گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ عارضی حکم کی مدت ستمبر میں ختم ہونے والی ہے، تاہم اس حکم میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس فیس کو مستقل بنانے کے لیے باقاعدہ ضابطہ تیار کرے۔ موجودہ مجوزہ قانون سازی اسی عمل کا حصہ ہے۔

نئی تجویز کے مطابق اگر ضابطہ حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے تو امریکا میں نئی H-1B ملازمت کے لیے آنے والے غیر ملکی کارکنوں پر فیس کا غیر معمولی مالی بوجھ عائد ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے لیے بھی غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے جو H-1B پروگرام پر انحصار کرتی ہیں۔

H-1B پروگرام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ امریکا کے بعض شعبوں میں مقامی طور پر مطلوبہ تعداد میں ماہر کارکن دستیاب نہیں ہوتے، اس لیے غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق کے شعبے اس پروگرام سے خاص طور پر فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ اور پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض کمپنیاں H-1B ویزے کے ذریعے نسبتاً کم اجرت پر غیر ملکی کارکن بھرتی کرکے امریکی شہریوں کی ملازمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B پروگرام کے لیے سخت شرائط اور زیادہ فیس کی حمایت کی ہے۔

نئی فیس کے خلاف امریکی چیمبر آف کامرس، بعض ریاستی حکومتوں، مزدور تنظیموں اور کمپنیوں کے اتحاد سمیت مختلف فریق پہلے ہی قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صدر کو امیگریشن قوانین کے تحت غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے، لیکن وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسی فیس عائد نہیں کرسکتے جو حکومتی آمدنی کا ذریعہ بن جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رقم روایتی ٹیکس نہیں بلکہ غیر ملکی کارکنوں کے امریکا میں داخلے کو محدود کرنے کے صدارتی اختیار کے تحت عائد کی گئی فیس ہے۔

امریکی امیگریشن پالیسی میں سختی کے باعث H-1B پروگرام میں دلچسپی بھی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کمپنیوں نے تقریباً 3 لاکھ 44 ہزار H-1B ویزوں کے لیے رجسٹریشن کرائی، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد سے زیادہ کمی تھی۔

اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B درخواست گزاروں کی مزید سخت جانچ کا حکم دیا ہے اور ویزا انتخاب کا ایسا نیا طریقہ متعارف کرانے کی تجویز دی ہے جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

اگر 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر کی نئی فیس حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ H-1B ویزا پروگرام کی تاریخ میں سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہوگی، جس کے اثرات غیر ملکی ماہرین، امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور تحقیقاتی شعبے پر پڑ سکتے ہیں۔