ایران کی موجودہ قیادت سے سفارتی معاہدہ ممکن نہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کو بھی سراہا


ویب ڈیسک August 26, 2026

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی قابلِ اعتماد معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حکمرانوں کے لیے انتہائی سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ کسی معاہدے کے امکان پر شکوک رکھتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایران کے معاملے پر سفارت کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی تھی۔ تاہم نیتن یاہو کے مطابق انہیں یقین نہیں کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ کسی نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ معاہدہ ممکن نہیں اور اسی وجہ سے سفارتی راستے کے حوالے سے ان کی امیدیں بہت محدود ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کو بھی سراہا۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید مالی اور اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم معاملات پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ سفارت کاری، اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ کے درمیان توازن آنے والے دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پالیسی کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔