NEW DEHLI:
بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کے احتجاج، سیاسی سرگرمیوں اور پولیس سے جھڑپوں کے واقعات نے تعلیمی ماحول اور کیمپس میں مودی راج کی سیاسی مداخلت سے متعلق بحث کو دوبارہ تیز کردیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں 27 ستمبر کو آر ایس ایس کے حملے میں 8 طلبہ شدید زخمی ہوئے جبکہ طلبہ کا کہنا ہے کہ 150 سے زائد افراد کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے خود کو بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ظاہر کیا۔
دی وائر کے مطابق طلبہ نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے انہیں ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، گالم گلوچ کی اور بعض طالبات کے کپڑے اتارنے کی کوشش بھی کی۔ رپورٹ میں طلبہ کے بیانات کے حوالے سے کہا گیا کہ پولیس کی آمد کے بعد بھی کشیدگی برقرار رہی۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے پس منظر میں ایک ایسی تنظیم کا اجلاس تھا جسے طلبہ نے آر ایس ایس سے وابستہ قرار دیا۔
طلبہ کا مؤقف تھا کہ انہیں اجلاس کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور سیاسی سرگرمی کے لیے ادارے کے مرکزی آڈیٹوریم کا استعمال ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہا تھا۔
دوسری جانب لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر کے بعد احتجاج شدت اختیار کرگیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس نے مظاہرین کی جانب سے سڑک بند رکھنے پر لاٹھی چارج کیا جبکہ احتجاج کے دوران طلبہ کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
بعض طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے واضح کیا کہ زیادتی سے متعلق گردش کرنے والی اطلاع کی اس وقت تک تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران جالندھر-پھگواڑہ نیشنل ہائی وے پر ٹریفک متاثر ہوئی جبکہ یونیورسٹی کی املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے صورتحال قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی بات کی۔
ان واقعات نے بھارت کے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں، طلبہ کے احتجاج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل اور کیمپس میں طلبہ کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔