فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز کو ہائی جیک یا گرانے کی کوشش کرنے والے عمان سے تعلق رکھنے والے گرفتار معاون پائلٹ کو سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اماراتی تفتیش حکام کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر اسرائیلی سیکیورٹی حکام بھی ملزم سے تفتیش کریں گے جس میں امریکا کی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
تاحال گرفتار معاون پائلٹ کے بارے میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق عمان سے ہے اور 8 ماہ قبل ہی فلائی دبئی میں بطور معاون کپتان بھرتی ہوا تھا تاہم وہ خواتین سے کتراتا تھا اور دن میں زیادہ وقت نمازیں پڑھتا رہتا تھا۔
قبل ازیں سعودی وزارت داخلہ نے واقعے پر اپنے پہلے بیان میں بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے واقعے کی بنیادی تفصیلات کی تصدیق ہوگئی ہے تاہم تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں اب کہا گیا ہے کہ یہ تفصیلات اماراتی حکام کو بتادی گئی ہیں۔
سعودی حکام کے بقول پرواز میں موجود مسافروں نے مداخلت کرکے حملہ روکنے میں مدد کی جس کے بعد طیارے کو بحفاظت تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر اتارا گیا تھا جس میں سوار تقریباً تمام مسافر اسرائیلی شہری تھے۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق حملے میں کپتان اور معاون پائلٹ دونوں زخمی ہوگئے تھے جنھیں سعودی عرب میں ابتدائی طبی امداد دی گئی جب کہ حملہ کرنے والے معاون پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے لیے متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی ٹیموں کے تعاون سے ملزم سے تفتیش کی گئیں اور ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جبکہ گرفتار ملزم کو بھی کل دبئی بھیج دیا جائے گا۔
واقعے کے محرکات اور عمانی معاون پائلٹ کے ممکنہ روابط سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی اور امریکی حکام کی جانب سے ایران سے ممکنہ تعلق کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔